تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 138
اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ يُّرْسِلُ (بتائوتو)خشکیوں اورسمندروں کی مصیبتوں میں کون تم کو نجات کی راہ دکھاتاہے۔اورکون اپنی رحمت (یعنی الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى بارش)سے پہلے خوشخبری کے طور پر ہوائوں کو بھیجتاہے ؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے ؟ اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَؕ۰۰۶۴ اللہ تمہاری شرک کی باتوںسے بہت بلند ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔بتائو تو سہی کہ خشکیوں اور سمندروں کے اندھیروں میں تمہیں کون رستہ دکھاتاہے اس جگہ برّ سے مراد ایسی قومیں ہیں جن میں الہام الٰہی نہیں پایاجاتا۔اور بحر سے مرادایسی قومیں ہیں جن میں الہام الٰہی توپایا جاتا ہے لیکن وہ انسانی دخل اندازیوں کی وجہ سے سمندر کے پانی کی طرح شور ہوگیاہے۔چنانچہ دوسری جگہ قرآن کریم میں ان معنوں کی وضاحت موجود ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظَھَرَ الْفَسَادُ فِیْ البَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :۴۲)یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ وہ قومیں بھی بگڑ گئی تھیں جن میں الہامی پانی کا وجود نہیں ہے اوروہ اپنی عقل سے اپنے لئے قانون بناتی ہیں۔اوروہ قومیں بھی بگڑ گئی تھیں جن میں الہامی پانی توہے لیکن سمندر کے پانی کی طرح شور ہوکر انسان کے استعمال کے قابل نہیں رہا۔اسی طرح بتائو تو سہی کہ بادلوں سے پہلے بھیگی ہوئی ہوائیں کون چلاتاہے۔کیا اللہ تعالیٰ کے سواکو ئی اورمعبود ہے جویہ ہوائیں چلاتاہے۔یقیناً وہ مشرکوں کے شرکیہ خیالات سے بہت بالاہے۔جہاں تک ظاہر ی ہوائوں کاتعلق ہے بیشک ان کا وجو د بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی کاایک ثبوت ہے۔لیکن اس جگہ پر روحانی ہوائوں کا ذکر ہے اوررحمت سے مراد بعثتِ انبیاء ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ بعثتِ انبیاء سے پہلے ان کی قبولیت کے لئے لوگوں کے دلوں میں جوش پیداکردیتاہے۔اوروہ یہ محسوس کرناشروع کردیتے ہیں کہ اب کوئی نبی ہی آئے تووہ قوم کی اصلاح کرسکتاہے ورنہ اس کے سواقوم کی اصلاح کااَورکوئی ذریعہ نہیں اوریہ اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ آنے والا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور چونکہ بتوں کی طرف سے ایسے کوئی آدمی نہیں آتے اس لئے آنے والوں