تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 139
کے ذریعہ شرک کی تردید اورتوحید کاقیام ہو جاتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی وحدانیت اوراس کے مشرکانہ خیالات سے بہت بالاہونے کاثبوت لوگوں کو نظرآجاتاہے۔اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃوالسلام کے آنے سے پہلے خدا تعالیٰ نے ایسی رَو چلادی تھی کہ تمام کے تمام لو گ خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں یہ تسلیم کرنے لگ گئے تھے کہ یہ زمانہ مہدی اور مسیح کا محتاج ہے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے ایک دفعہ ممالک اسلامیہ کی سیاحت کی تواس کے بعد انہوں نے اپنے سفر کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ ممالک اسلامیہ کے سفر میں جتنے مشائخ اورعلماء سے ملاقات ہوئی میں نے ان کو امام مہدی کا بڑی بے تابی سے منتظرپایا۔‘‘ (اہل حدیث ۲۶؍جنوری ۱۹۱۲ ء) اسی طرح یورپ کاایک مفکر جس کانام مارس انڈس تھا۔و ہ بھی ایک دفعہ اسلامی ممالک کی سیاحت کے لئے گیا۔تواس نے بعد میں اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے لکھاکہ ’’ دمشق ،بیروت، بغداد، مکہ، طہران، قاہر ہ اوران کے ساتھ لنڈن اورواشنگٹن بھی ایک پیغمبر کے انتظار میں ہیں جو سماجی مقصد و اصلاح کاجھنڈالے کر کھڑاہو‘‘۔(بحوالہ رسالہ ’’ نگار‘‘جنوری و فروری ۱۹۵۱ ء) یورپ کاایک پروفیسر جس کانام میکنزی ہے اس نے ایک کتاب ’’ انٹروڈکشن ٹوسوشیالوجی ‘‘ میں اس امر پر بحث کرتے ہوئے کہ کامل انسانوں کے بغیر سوسائٹی معراج کمال تک نہیں پہنچ سکتی لکھا کہ ’’ہمیں بھی ترقی کے لئے ایک مسیح کی ضرورت ہے‘‘۔(بحوالہ مکاتیب اقبال صفحہ ۴۶۲و۴۶۳۔) اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب نے بڑی بے تابی کے ساتھ لکھا کہ ’’ حساب کی رُو سے مہدی کاظہور تیرھویں صدی کے شروع میں ہوناچاہیے تھا۔مگریہ صدی پوری گذ رگئی اورمہدی نہ آئے۔اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے۔شائد اللہ تعالیٰ اپنافضل فرمائے اورچار یاچھ برس کے اند ر اندر مہدی ظاہر ہوجائیں۔‘‘ (اقتراب الساعۃص ۲۱) علامہ اقبال نے بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہے جہاں لاالہ الّا اللہ ‘‘ (کلیات اقبال صفحہ ۵۲۷)