تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 137
ہے(متی باب ۱۹آیت ۲۴)۔اس لئے گو میں تمہیں نو ر حاصل کرنے کاراستہ بتادوں گا۔مگرمیں سمجھتاہوں کہ وہ نو ر کوقبول نہیں کریں گے۔کہنے لگا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ نو ر مل بھی جائے اور پھر بھی انسان اس کوچھوڑ دے۔میں نے کہا۔حضرت مسیح ؑ نے ایسا ہی کہا ہے۔اس لئے میں سمجھتاہوں کہ انہوں نے نوردیکھنے کے باوجود اسے قبول کرنے کی کوشش نہیں کرنی۔اس نے کہا۔آپ ہمیں نور حاصل کرنے کاراستہ بتائیں۔وہ اسے ضرور قبول کریں گے۔اس پر میں نے اپنے پرائیویٹ سکرٹری کو بلایا۔اوراسے کہا کہ چونکہ یہ عربی نہیں جانتے اس لئے انہیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ١ۙ۬ۦغَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ۔کاپنجابی میں ترجمہ لکھ کردے دو۔چنانچہ انہیں اس کاپنجابی ترجمہ لکھ کر دے دیاگیا اور میں نے کہا روزانہ سوتے وقت آپ لوگ یہ دعاپڑھاکریں مگرجس وقت یہ دعاکریں اس وقت اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کریں کہ اے خداتوہمیں کہیں بھی ہدایت دکھائے ہم اسے قبول کرلیںگے۔اگر اس دعا کے کرتے وقت آپ نے دل میں یہ فیصلہ نہ کیا کہ خدا تعالیٰ جو بھی ہدایت دے گا ہم اسے قبول کرلیں گے تواللہ تعالیٰ آپ کونور نہیں دکھائے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ مداری نہیں وہ فضول کھیلیں نہیں دکھایاکرتا۔ہاں اگرآپ کے دل میں کمزوری کی وجہ سے بعد میں آپ سے کچھ غلطی ہوجائے تویہ اَوربات ہے۔چورچوری سے توبہ کرتاہے اور اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلیتا ہے۔حالانکہ دوسرے دن وہ توبہ توڑ کر پھر چوری کرنے لگ جاتاہے۔پس اگرآپ کے نفس میں کوئی کمزور ی ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرے گا وہ صرف یہ دیکھے گا کہ اس وقت آپ کی نیت یہ ہے کہ اس کی ہدایت کوقبول کرلیں گے۔اس پر وہ چلا گیا پندرہ بیس دن کے بعد اس کی چٹھی آئی کہ آپ کی بات سچی ہوگئی۔خدا تعالیٰ کانو رمیرے آقاکو نظر آگیا ہے۔مگراس کے ساتھ ہی آپ کی یہ دوسری بات بھی سچی ہوگئی کہ ان سے مانانہیں جائے گا۔اب نو رتونظرآگیاہے مگرانہیں اس کوقبول کرنے کی ہمت نہیں۔معلوم ہوتاہے اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی صداقت کے متعلق کوئی اشارہ کردیاہوگا۔مگرپھراس نے سوچاہوگاکہ اگر میں نے اسلام قبول کرلیا تومیرے بیٹے کی وزار ت بھی جائے گی اور میراکارخانہ بھی تباہ ہوجائے گااس لئے قبول کرنے کاکیافائدہ۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہرقوم اورہرزمانہ کے لوگوں کے لئے دعائوں کاراستہ کھلارکھاہواہے اورخدا تعالیٰ کی طرف سچے د ل سے توجہ کرنے والا خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتاہو اگروہ مضطر ہو جائے تو خدا تعالیٰ اس کی دعاکویقیناً سنتاہے۔مگرافسوس ہے کہ لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور وہ سیدھا راستہ اختیارکرنے کی بجائے غلط راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔