تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 136
ہزاروں مثالیں پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں واقعات کو اپنی ہستی کے ثبوت میں پیش کرتے ہوئے بنی نوع انسان کو توجہ دلاتاہے کہ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتاکہ ا س کی تَہ میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہی کام کررہاہے۔مگر افسوس کہ تم پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے اورخدا تعالیٰ کے آستانہ کو ترک کرکے بتوں کے آگے اپنے سرجھکاتے پھرتے ہو۔اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کواپنی ذات کا یقین دلانے اور اورپنے وجود کاعلم دینے اور انہیں اپنی طرف کھینچنے کے لئے دعا کادروازہ کھولاہے جو ہرمذہب وملت سے تعلق رکھنے والے کے لئے یکساں طور پر کھلاہے یعنی خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا انسان ہو اگر وہ مضطر ہو کراللہ تعالیٰ کو پکارے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ا س کی دعائوں کو سنے گا اوراس کے لئے وہ راستہ کھول دے گاجس سے اس کی مشکلات دو رہوجائیں گی اوراسے اطمینان قلب حاصل ہوجائے گا۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک دفعہ ایک ہندومیرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے میرے آقا نے آپ کے پاس بھجوایاہے اوردریافت کیا ہے کہ کیا نور ملنے کابھی کوئی طریق ہے ؟ پہلے توا س نے یہ نہ بتایاکہ کون اس کاآقاہے اور وہ کہاں رہتاہے اوراس نے بات کو چھپاناچاہا۔مگر جب میں نے جرح کی توکہنے لگا۔وہ بڑے ٹھیکیدار ہیں۔ان کے پاس عمارتوں اورنہروں کا ٹھیکہ ہوتاہے اورہندوستان میں اس کا ایک بڑابھاری کارخانہ بھی ہے۔آخر بہت سی باتوں کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ سردار بلدیو سنگھ صاحب جوہندوستان کے ڈیفنس منسٹر رہے ہیں ان کے والد نے اسے بھجوایا تھا۔ٹاٹانگرکے پاس ان کابڑابھاری کارخانہ ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ وہ توسکھ ہیں اور تم ہندوہو تمہاراان کے ساتھ کیسے تعلق ہوا۔اس پر اس نے کہا کہ میں اوروہ بچپن میں اکٹھے پڑھتے رہے ہیں اوران کے ساتھ میری بڑی دوستی ہے۔اب انہوں نے اس دوستی کی وجہ سے ہی ایک دفترکامجھے انچار ج بنایاہواہے اور مذہبی خیالات کاتبادلہ مجھ سے کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے مجھ سے کہاتھاکہ تم مرزا صاحب سے جاکر پوچھو کہ کیا نورملنے کی بھی کوئی تدبیر ہے۔ہم مسلمان پیروں کے پاس بھی گئے ہیں۔ہندوؤں کے پاس بھی گئے ہیں ،سکھوں کے پاس بھی گئے ہیں۔مگرہمیں کہیں نور نہیں ملا۔میںنے کہا۔یہ ہماری تواصطلاح نہیں سکھوں کاایک محاورہ ہے جوان میں رائج ہے۔مگربہرحال ہم جس چیز کوہدایت کہتے ہیں وہ اس کانام نو ررکھتے ہیں۔اورہدایت ملنے کاراستہ میں بتانے کے لئے تیار ہو ں۔مگرچونکہ اس نے شروع میں ہی کہہ دیاکہ وہ بڑے مالدار ہیں۔اورکروڑ پتی ہیں۔اس لئے میں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ گومیں عیسائی نہیں مگرحضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت او ربزرگی کاقائل ہوں اورآپ فرماتے ہیں کہ اونٹ کاسوئی کے ناکہ میں سے گذ ر جانا آسان ہے لیکن دولت مند کا خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل