تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 121

بیوی ان معنوں میں پیچھے نہیں رہی تھی جن معنوں میں کہ حضرت لوط ؑ کی بیوی پیچھے رہی تھی۔کوئی بیوی اپنی مرضی سے پیچھے نہیں رہی اورکوئی بیوی دائمی طور پر پیچھے نہیں رہی اورنہ کوئی بیوی کسی عذاب میں مبتلاہوئی بلکہ حضرت سودہؓ اور حضرت عائشہؓ دونوں بعد میں مدینہ پہنچ گئیں۔حضرت سودہؓ اور آپ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو توحضر ت زیدؓ لے آئے۔جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میںتشریف میںلاتے ہی دواونٹ اورپانچسودرہم دےکر مکہ بھجوایاتھا تاکہ وہ آپ کی بیٹیوں اورازواجِ مطہرات کو لے آئیں۔اور حضرت عائشہؓ اپنے بھائی حضرت عبداللہؓ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔اوراس طرح آپؓ کی سب بیویاں آپ کے انعامات میں حصہ دار بنیں۔حضرت لوط علیہ السلام نےجب اپنی قوم کو خدا تعالیٰ کاپیغام پہنچایااوران کو باہر سے آنے والے لوگوں پرظلم کرنے فسادکرنے اور جنسی معاملات میں بے راہ روی اختیارکرنے سے منع کیاتوبجائے اس کے کہ وہ اپنی اصلاح کی طر ف توجہ کرتے انہوں نے حقارت سے حضرت لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کے متعلق یہ کہنا شروع کردیا کہ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ۠کہ یہ لوگ بڑے نیک بنے پھرتے ہیں۔یعنی حقیقتاً تونیک نہیں مگر ہمارے افعال پر اعتراض کرکے یہ لوگ اپنی بڑائی ثابت کرناچاہتے ہیں۔یایہ ایک ایساگروہ ہے جو تکلف سے نیکی ظاہر کرتاہے۔یعنی نیکی اور تقویٰ کادعویٰ توکرتاہے لیکن دراصل نیک نہیں ہے۔فرماتا ہے وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ۔ہم نے ان کے جرائم کی پاداش میں ان پرایک تباہ کن بارش برسائی۔اورجن کے لئے تباہی اور بربادی کافیصلہ ہوچکاہو ان پر نازل ہونے والی بارش بہت ہی ہولناک اور خطرناک نتائج کی حامل ہواکرتی ہے۔یہ بارش دراصل پتھروں کی تھی جو ایک خطرناک زلزلہ کے نتیجہ میں ہوئی۔یعنی زمین کاتختہ الٹ گیا۔اورمٹی سینکڑوں فٹ اوپر جاکر پھر نیچے گری۔اوراس طرح گویا مٹی اورپتھروں کی ان پر بارش ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس بارش کو عذاب کے طورپرنازل کیاگیاتھاوہ ظاہری بارش بھی تھی جو جنگ بدر کے وقت ہوئی اور ریت اور کنکروں کی بارش بھی تھی۔جواس وقت آئی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعاکرنے کے بعد کنکروں کی ایک مٹھی اٹھا کر دشمن کی طرف پھینکی۔آپ کا یہ کنکر پھینکنا گویاآسمانی طاقتوں کو ایک اشارہ تھا ادھر آ پ نے کنکروں کی مٹھی پھینکی اورادھر ایک تیز آندھی مسلمانوں کی پشت کی طرف سے چل پڑی اور اس کے ساتھ ریت اورکنکروں کاایک طوفان اٹھاجس نے کفار کی آنکھوں کو اندھاکردیا۔اوراس کے ساتھ ہی ان کے تیر بھی ہواکی مخالفت کی وجہ سے مسلمانوں تک پہنچنے سے رک گئے۔اورمیدان کے درمیان میں ہی