تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 120

امْرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِيْنَ۰۰۵۸وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ کوپیچھے رہنے والوں میں گن چھوڑاتھا۔اورہم نے ان پر ایک بارش برسائی۔اورجن کو عذاب کا پیغام مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَؒ۰۰۵۹ پہنچ چکاہو ان کی بارش بہت بر ی ہوتی ہے۔حل لغات۔غٰبِرِیْنَ۔غَابِرِیْنَ غَابِرٌ کی جمع ہے اور اَلْغَابِرُ کے معنے ہیں اَلْبَاقِیْ۔باقی رہنے والا۔نیر اَلْغِبْرُ کے معنے ہیں اَلْحِقْدُ۔کینہ۔(اقرب) پس غَابِر کے معنے ہوں گے باقی رہنے والایاکینہ رکھنے والا۔تفسیر۔قوم ثمود کی ہلاکت کے ذکر کےبعد اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام کاواقعہ بیان فرماتا ہے۔حضرت لوط علیہ السلام بھی حضرت سلیمان علیہ السلام سے بہت پہلے گذر چکے تھے یعنی حضرت سلیمانؑ موسیٰ علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے جوآگے حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے جن کے لوطؑ چچازادبھائی تھے۔حضرت لوط علیہ السلام کاواقعہ یہاں اس لئے بیان کیاگیاہے کہ ان کے واقعہ کو حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے واقعہ سے مشابہت ہے۔حضر ت صالح علیہ السلام کی قوم نے بھی رات کے وقت منصوبہ کرکے ان پر حملہ کرناچاہاتھا۔اورلوط ؑ کی قوم نے بھی رات کے وقت منصوبہ کرکے ان کو گھر سے نکالنااو ران کے مہمانوں کو ذلیل کرناچاہاتھا۔اسی مشابہت کی وجہ سے اس واقعہ کو یہاں بیان کیاگیاہے۔اوردرحقیقت یہ تمام واقعات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطورپیشگوئی بیان کئے جارہے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی حضرت لوط ؑ کی قسم کاواقعہ پیش آیا۔حضرت لوط ؑ کی قوم نے بھی یہ فیصلہ کیاکہ ان کوان کے شہر سے نکال دیں۔یہی فیصلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی کیاتھااوردونوں کاالزام ایک تھا گووجوہ مختلف تھے۔دونوں کہتے تھے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہم سے زیادہ پاکیز ہ قرار دیتے ہیں مگرہوایہ کہ خدا نے لوط ؑ اوراس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے بچالیا۔کیونکہ وہ آپ کے مخالفوں میں سے تھی۔اوروہ آپ کی تعلیم سے کینہ اور بغض رکھتی تھی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی بچالیا اورآپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ بھی محفوظ رہے۔پس اس آیت کے مطابق حضرت ابو بکرؓ یقیناً آپ کے اہل میں شامل ہیں۔بیشک حضرت لوط ؑ کے متعلق یہ بھی آتاہے کہ ان کی بیوی پیچھے رہ گئی۔مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام چونکہ حضرت لوط ؑ سے بہت بالاتھا اس لئے آپ کی کوئی