تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 122
بے کار اوربے ضررہوکر گرنے لگے اوراس طرح کفار مکہ پروہ عذاب آگیا جوقوم لوط ؑ کی مشابہت میں ان پر آنا ضروری تھا۔اورجس کے لئے ابو جہل نے بھی یہ دعاکی تھی کہ اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ(الانفال :۳۳)یعنی اے خدااگر اسلام ایک سچامذہب ہے اورہم غلط راستہ پرجارہے ہیں توتُوہم پر آسمان سے پتھر برسا۔یاہمیں کوئی اوردردناک عذاب دے۔اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے نتیجہ میں آسمان سے ان پرپتھربھی برسائے او رپھرانہیں اس عذاب الیم میں بھی مبتلاکیا کہ ان کے چنیدہ افسر اس جنگ میں ہلاک ہوگئے۔ان کی عزتیں خاک میں مل گئیں۔ان کی وجاہتوں کاخاتمہ ہوگیا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دنیا پرآفتاب نصف النہار کی طرح ظاہر ہوگئی۔قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى١ؕ توکہہ دے ہرتعریف کااللہ (ہی)مستحق ہے۔اوراس کے وہ بندے جن کواس نے چن لیا ہو ان پر ہمیشہ سلامتی آٰللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَؕ۰۰۶۰ نازل ہوتی ہے۔کیااللہ(تعالیٰ)بہترہے یاوہ چیزیں جن کو وہ (اس کا )شریک قراردیتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے اے محمدؐ رسول اللہ تولوگوں سے کہہ دے کہ ہرقسم کی تعریف کااللہ تعالیٰ ہی مستحق ہے جس نے ہرزمانہ میں لوگوں کی ہدایت او رراہنمائی کے لئے اپنے انبیاء بھیجے۔کسی زمانہ میں اس نے موسیٰ ؑ کولوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا۔کسی زمانہ میں دائودؑ اورسلیمان ؑ کو بھیج دیا۔کسی زمانہ میں حضرت صالح ؑ کولوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا۔کسی زمانہ میں حضرت لوط ؑ کونبوت کے مقام پر کھڑاکردیا۔اورپھرخدا نے اپنے ان برگزیدہ بندوں کو کبھی اپنی نصرت اور تائیدسے محروم نہیں کیا۔بلکہ ہمیشہ ان کے لئے سلامتی نازل ہوتی رہی اور ہمیشہ ہی اس کے برگزید ہ بندوں پر سلامتی نازل ہوتی رہتی ہے۔اب بتائو کیا اللہ اچھا ہے جواپنے بندوںکو بچاتا اور ترقی دیتارہتاہے اورجس نے لوگوں کی راہنمائی کے لئے اپنے کلام او رالہام کاسلسلہ جاری کیاہواہے یایہ معبودان باطلہ اچھے ہیں جن کے ماننے والے ہمیشہ تباہ ہوتے ہیں اورجن کی طرف سے کبھی کوئی رسول اس پیغام کے ساتھ کھڑانہیں ہواکہ مجھے ھبل نے دنیا کی ہدایت کے لئے بھجوایا ہے یالات اورمناۃ نے بھجوایا ہے اورمیں اپنے مخالفوں پر غالب رہوں گا۔