تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 119
زمانہ تھاکہ اہل مکہ کواس قد رعزت حاصل تھی کہ ان کاایک سردار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتاہے اورآپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاکر کہتا ہے۔میں عرب کاباپ ہوں۔میری بات مان لو۔اورجب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتاہے توسوائے حضرت ابو بکرؓ کے اَور کوئی صحابیؓ جرأت نہیں کرسکتاکہ اسے روکے۔کیونکہ ان میں سے ہرایک پر رؤساء مکہ کاکوئی نہ کوئی احسان تھا۔اوریاپھر وہ زمانہ آیا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تویہ تمام رؤساء مجرموں کی طرح آپ کے سامنے پیش کئے گئے اورآپ نے ان سے پوچھا۔کہ بتائو اب تمہارے ساتھ کیاسلوک کیاجائے۔اس وقت ان لوگوں نے نہایت ندامت اورشرمندگی کے ساتھ اپنے سر جھکالئے اورکہا کہ ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جویوسفؑ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیاتھا(سیرۃ لابن ہشام ذکر اسباب الموجبۃ للمسیر)۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہؓ کامکہ سے نکالا جانا حضرت صالح ؑ اور ان کے ساتھیوں کی طرح بڑی بھاری کامیابیاں اورفتوحات کاپیش خیمہ ثابت ہوااوراسلام مکہ سے نکل کر عرب میںاور پھر عرب سے نکل کر سارے عالم میں پھیل گیا اورمشرکین مکہ کا نشان تک باقی نہ رہا۔وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ اور(ہم نے)لوطؑ کو (بھی رسول بناکر بھیجا)جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا۔کیاتم بدیاں کرتے ہو۔تُبْصِرُوْنَ۰۰۵۵اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ اور تم دیکھ رہے ہوتے ہو۔کیاتم عورتوں کو چھوڑ کر مَرودں کے پاس شہوت کی نیت سے آتے ہو۔النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ۰۰۵۶فَمَا كَانَ جَوَابَ حقیقت یہ ہے کہ تم ایک جاہل قوم ہو۔پس اس کی قوم کا جواب صرف یہ تھا کہ (اے لوگو!) قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ١ۚ لوط کے خاندان کو اپنے شہر سے نکال دو۔وہ ایسے لوگ ہیں جو بڑانیک بنناچاہتے ہیں۔نتیجہ یہ ہواکہ ہم نے اِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ۠۰۰۵۷فَاَنْجَيْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا اس (یعنی لوط ؑ)کواوراس کے خاندان کے لوگوں کو سوائے اس کی بیوی کے نجات دی۔ہم نے اس (یعنی بیوی)