تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 118
سے گفتگو کرنے کے لئے بھیجا تھا۔اس نے باتوں باتوںمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا دیا۔یہ دیکھ کرا یک صحابیؓ نے اپنی تلوار کا کندہ اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا اپنے ناپاک ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو مت لگا۔اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تاکہ معلو م کرے کہ یہ کون شخص ہے جس نے میرے ہاتھ پر تلوار کا دستہ ماراہے۔صحابہ ؓ چونکہ خود پہنے ہوئے تھے اس لئے ان کی صرف آنکھیں اوراس کے حلقے ہی دکھائی دیتے تھے۔وہ تھوڑی دیر غور کرکے دیکھتا رہا۔پھر کہنے لگا۔تم فلاں شخص ہو۔انہوں نے کہا۔ہاں! اس نے کہا۔کیا تمہیں معلوم نہیں میں نے فلاں موقعہ پر تمہارے خاندان کو فلاں مصیبت سے نجات دی تھی۔اور فلاں موقع پر تم پر فلاں احسان کیا تھا۔کیا تم میرے سامنے بولتے ہو۔اب تو احسان فراموشی کا مادہ لوگوں میں اس قدر عام ہوچکا ہے کہ کسی پر صبح کو احسان کرو تو شام کو وہ بھو ل جاتا ہے اور شام کو کرو تو صبح کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے کیا میں اب سار ی عمر اس کا غلام ہی بنارہوں۔وہ ساری عمر کے احسانات چھوڑ ایک رات کے احسان کی قدر تک برداشت نہیں کرسکتا۔مگر عربوں میں احسان مندی کا جذبہ بدرجہ کمال پایا جاتا تھا جب اس نے اپنے احسانات گنوائے تو گویہ ایک نہایت ہی نازک موقعہ تھا مگر پھر بھی اس صحابی ؓ کی نظریں زمین میں گڑ گئیں اور وہ پیچھے ہٹ گئے۔اس پر پھر ا س نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنی شروع کردیں اور کہا۔میں عرب کا باپ ہوں۔میں تمہاری منّت کرتا ہوں کہ تم اپنی قوم کی عزت رکھ لو۔اور دیکھویہ جو تمہارے اردگرد جمع ہیں یہ تو مصیبت آنے پر فوراً بھاگ جائیں گے اور تمہارے کام آخر تمہاری قوم ہی آئے گی۔پس کیوں اپنی قوم کو ذلیل کرتے ہو اسی دوران میں اس نے اپنی بات پر زور دینے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منوانے کی خاطر آپ کی ریش مبارک کو پھر ہاتھ لگا دیا۔اور گوآپ کی ریش مبارک کو اس کا ہاتھ لگانا لجاجت کے رنگ میں ہی تھا اور اس لئے تھا کہ آپ سے وہ اپنی بات منوا ئے مگر چونکہ اس میں تحقیر کا پہلو بھی پایا جاتا تھا۔اس لئے صحابہ ؓ اسے برداشت نہ کرسکے۔اور جونہی اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگایا۔پھرکسی شخص نے زور سے اپناہاتھ اس کے ہاتھ پرمارااورکہا اپنے ناپاک ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کی طرف مت بڑھا۔اس نے پھر آنکھ اٹھائی اورغور سے دیکھتارہاکہ یہ کون شخص ہے جس نے مجھے روکا اورآخر پہچان کر اس نے اپنی آنکھیں نیچی کرلیں اورکہا ابو بکرؓ! میں جانتاہوں کہ تم پرمیراکوئی احسان نہیں (بخاری کتاب الشروط باب الشروطی الجہاد و سیرۃ لابن ہشام امر حدیبیہ)۔پس وہ دوسروں پر اس قدر احسان کرنے والی قوم تھی کہ سوائے حضرت ابوبکرؓ کے جس قدر انصار اور مہاجر وہاں تھے ان سب پر اس رئیس کا کوئی نہ کوئی احسان تھا۔اور حضرت ابوبکر ؓ کے سوااور کسی میں یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اس کے ہاتھ کو روک سکے۔اب ایک تووہ