تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 117
عتبہ تھا اور (۹)نواں مفسد شیبہ تھا۔ان میں سے ابوجہل۔امیہ۔عقبہ بن ابی معیط، عتبہ اور شیبہ پانچوں جنگ بدر میں مارے گئے۔النضر ابن الحارث جنگ بدر میں قید ہوا۔اورپھر اپنے جرائم کی پاداش میں ماراگیا۔ولید ہجرت کے تین ماہ بعد پائوں میں تیر چبھ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوا۔عاص بن وائل ہجر ت کے دوسرے ماہ اچانک پائوں سوجھ جانے سے مر گیا اور ابولہب جنگ بدر کے تھوڑا عرصہ بعد مکہ میں بیمار ہو کر ہلاک ہوا (بخاری کتاب المغازی باب دعا ء النبی علی کفار قریش)۔ان لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو نقصان پہنچانے اور آپ کو جسمانی رنگ میں بھی ہر رنگ کا دکھ پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی اور پھر انہوں نے یہیں تک بس نہ کی بلکہ ایک دن قریش مکہ کے تمام رؤساء دارالندوہ میں جمع ہوئے۔اور انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اسلام کے مٹانے کے لئے متحدہ طور پر کوئی تدبیر کرنی چاہیے۔اور آخر ابوجہل کی اس رائے پر سب کا اتفاق ہو گیا کہ ہر قبیلہ سے ایک ایک نوجوان چنا جائے اور ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک تلوار دے دی جائے۔پھر یہ سارے کے سارے اکٹھے ہوکر ایک رات محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )پر حملہ کر کے اسے قتل کردیں۔اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ چونکہ تمام قبائل کے چنیدہ نوجوان اس میں شریک ہوںگے۔اس لئے بنو عبد مناف کو یہ جرأت نہیں ہوگی کہ وہ ساری قوم کے ساتھ لڑ سکیں۔وہ زیادہ سے زیادہ یہی کریں گے کہ خون بہامانگ لیں۔سو وہ ہم دے دیں گے۔غرض انہوں نے یہ تدبیر کی اور اپنے دل میں خوش ہوئے کہ اب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے مگر جس خدا نے حضرت صالح ؑ اورا ن پر ایمان لانے والے مخلصین کو دشمنوں کی سازش سے محفوظ رکھا تھا اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچائو کے متعلق بھی تدبیر کی۔اورا دھر تو وہ یہ منصوبہ کر کے باہر نکلے اور ادھر خدا نے اس منصوبہ کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی اور آپ کو ہجرت کی اجازت مل گئی(سیرۃ لابن ہشام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔یہ ہجرت کی اجازت درحقیقت اسلام کے غلبہ کی ایک عظیم الشان بنیاد تھی اسی ہجرت کے نتیجہ میں جنگ بد ر کی صورت میں اہل مکہ پرو ہ عذاب آیا جس نے ان کی طاقت کو بالکل توڑ کر رکھ دیا۔اور پھر دوسرا عذاب ان پر اس وقت آیا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ کو فتح کر لیا۔مکہ والوں پرجو یہ عذاب آیا۔وہ ان کے لئے نہایت دردناک تھا۔مکہ کے رؤساء کو لوگوں میں اس قسم کی عزت اور عظمت حاصل تھی کہ لوگ ان کے سامنے بات تک کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے اور ان کے احسانات بھی لوگوں پراس کثرت کے ساتھ تھے کہ کوئی ان کے سامنے آنکھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ا ن کی اس عظمت کا پتہ اس واقعہ سے لگ سکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جس سردار کو مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم