تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 112

اس رئیس کے پاس پھر آئے اورکہنے لگے کہ اپنی پناہ واپس لے لو۔مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوسکتاکہ میرے بھائیوں پر ظلم ہواورمیںآرام سے پھروں۔اس نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانے او رآخر اس نے اعلان کردیا کہ آج سے عثمانؓ میری حفاظت میں نہیں ہے۔اس اعلان کے کچھ دن بعد عکاظ کامیلہ لگااور لَبید جوایک بہت بڑے شاعر گذرے ہیں انہوں نے ایک مجلس میں اپناقصیدہ سنانا شروع کیا۔مکہ کے بڑے بڑے عمائد اوررؤساء بیٹھے شعر سن رہے تھے اورجھوم جھوم کر اس کے شعروں کی داددے رہے تھے کہ لبید نے یہ مصرع پڑھا ؎ اَلَا کُلُّ شَیْءٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلٗ یعنی سنوکہ اللہ تعالیٰ کے سواہر چیز فناہوجانے والی ہے۔یہ مصرع سنتے ہی حضرت عثمان بن مظعونؓ نے اونچی آوازسے کہا کہ بالکل درست ہے۔تم نے سچ کہاہے۔خدا تعالیٰ کے سواہرچیز فناہوجانے والی ہے۔وہ شاعر عثمانؓ سے عمر میں بہت بڑاتھا۔اس وقت اس کی عمر اسی سال کے قریب تھی اوربعد میں و ہ ایک سوبیس سال کی عمر پاکر فوت ہوا۔جب اس نے دیکھا کہ ایک اٹھارہ سال کی عمر کے بچے نے اس کے شعر کی داد دی ہے توچونکہ وہ اپنے آپ کوبڑاکُہنہ مشق اورنہایت تجربہ کار سمجھتاتھااس کو ایک اٹھارہ سالہ بچے کاداد دینا چبھااور اس نے رؤساء سے مخاطب ہوکر کہا کہ اے مکہ والو!کیاتم میں اب کوئی ادب باقی نہیں رہا۔اس لڑکے نے مجھے کیوں داددی ہے۔اس کاداد دینابتاتاہے کہ اب تم میں اپنے شاعروںکاکوئی ادب باقی نہیں رہا۔اس پر لوگوں نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کو ڈانٹا اور انہیں کہاکہ بڑوں کی مجلس میں بولنے کاتمہیں کوئی حق نہیں۔تم خاموش بیٹھو اورشعر سنو۔اس کے بعد لبید نے اسی شعر کا اگلا مصرع پڑھا کہ ؎ وَکُلُّ نَعِیْمٍ لَامَحَالَۃَ زَائِلٗ یعنی ہر نعمت آخر ایک دن زائل ہونے والی ہے۔یہ مصرعہ سن کر حضرت عثمان بن مظعونؓ پھر بول اٹھے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہوتیں۔اب وہ شخص جس نے عثمانؓ کے داد دینے پر بھی برامنایاتھاوہ ان کی مذمت کیسے برداشت کرسکتاتھا۔اس نے شعر سنانے بند کردیئے اورکہا کہ میں ایسی مجلس میں آئندہ کوئی شعر سنانے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اس پر ایک شخص بڑے جوش سے اٹھا اوراس نے عثمان بن مظعونؓ کوگھونسہ ماراجوسیدھا ان کی آنکھ میں لگااور ان کی آنکھ کاایک ڈیلا باہر نکل آیا۔وہ رئیس جس نے پہلے انہیں پناہ دی تھی وہ بھی اسی مجلس میں بیٹھاہواتھاوہ رؤساء کی موجود گی میں اتنی جرأت تونہیں کرسکتاتھاکہ کھلم کھلا عثمانؓ کی حمایت کرتا مگرجیسے کسی نوکرکابچہ اگرآقاکے بچے سے لڑ پڑے اور آقا کا بچہ نوکر کے بچے کو مارےتونوکر اپنے بچے کوہی ڈانٹناشروع