تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 113

کردیتاہے۔اسی طرح اس رئیس نے بھی حضرت عثمانؓ کو دیکھااورغصہ سے کہا۔میں نہیں کہتاتھاکہ میری پناہ میں سے نہ نکلو۔اب دیکھا پناہ میں سے نکلنے کاکیامزہ آیا۔اب بظاہرتویہ الفاظ غصہ والے نظر آتے ہیں مگردرحقیقت ان میں محبت کی ایک جھلک پائی جاتی تھی۔جب اس رئیس نے یہ بات کہی تو عثمان بن مظعونؓ نے جواب دیاکہ اگر میری ایک آنکھ نکل گئی توکیاہوا۔خدا کی قسم میری تودوسری آنکھ بھی اس بات کاا نتظار کررہی ہے کہ اسے خدا کی راہ میں نکلنے کاکب موقعہ ملتاہے۔یہ وہ نئی زندگی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ صحابہؓ کو ملی اورجس نے انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا۔اس کے مقابلہ میں ابو جہل کے سامنے ہرقسم کے برے کام کئے جاتے تھے مگر وہ انہیں ہنسی خوشی برداشت کرلیتاتھا۔ابوجہل کے برداشت کرلینے اور صحابہؓ کے برداشت نہ کرسکنے کی وجہ یہی ہے کہ ابوجہل مردہ تھااورصحابہؓ زندہ تھے۔پھر صحابہ کی زندگی کا اس امر سے بھی ثبوت ملتاہے کہ مکہ کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے رکھی گئی تھی۔مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک مکہ کے لوگ کولھو کے بیل کی طرح صر ف ایک ہی جگہ چکر کاٹتے رہے اورعرب سے کبھی باہر نہیں نکلے۔مگرجونہی رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم نے صحابہؓ میں زندگی کی ایک نئی روح پھونکی۔وہ ایک قلیل عرصہ میں ساری دنیا پرچھاگئے حالانکہ صحابہؓ انہی لوگوں کی اولاد تھے جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک جو اڑہائی ہزار سال کا لمباعرصہ بنتاہے ساکت اورجامد بیٹھے رہے اورکولھو کے بیل کی طرح عرب کے اندر ہی چکر کاٹتے رہے لیکن جب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اندر زندگی کی ایک نئی روح پھونکی تووہ دیکھتے ہی دیکھتے چین،سپین ،سسلی ،اٹلی ،افریقہ اورروس کی سرحدوں تک جاپہنچے۔اورابھی آدھی صدی بھی نہیں گذری تھی کہ مسلمان ساری دنیا پرچھاگئے۔یہی وہ زندگی تھی جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو عطاہوئی اوریہی وہ زندگی تھی جس کاجام ہرنبی کو دیاگیا۔اورانہوں نے چاہاکہ روحانی لحاظ سے سڑے گلے مردے بھی وہ جام اپنے ہونٹوں سے لگاکر ایک نئی زندگی حاصل کریں۔مگراس لئے کہ انبیاء ایک نیانظام جاری کرتے ہیں اورہرنظام اپنے ساتھ ایک انقلاب وابستہ رکھتاہے وہ لوگ جوروحانیت کے دشمن ہوتے ہیں ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔اورانہیں ہرقسم کی نحوستوں کا موجب قراردے دیتے ہیں۔موجودہ زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق طاعون اورزلازل سے اموات ہوئیں توگوایک طبقہ نے ہدایت حاصل کی مگرکچھ لوگوں نے یہ بھی کہنا شروع کردیا کہ یہ بلائیں اوروبائیں محض مرزا صاحب کی نحوست کی وجہ سے آرہی ہیں۔اگریہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کادعویٰ نہ کرتے