تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 111
کو گالی دی جائے یااسے قتل کردیاجائے وہ دفاع کے لئے کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔نہ اس ظلم کااسے کچھ احساس ہوتاہے۔لیکن زندہ انسان اپنے نفع اورنقصان کو بھی سمجھتاہے۔اوردوسروں کے حقوق کے لئے بھی جدوجہد کرتاہے۔یہی کیفیت روحانی مردوں میں بھی پائی جاتی ہے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہرقسم کے مظالم دیکھتے ہیں لوگ ان کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں۔ان کی موجودگی میں دھوکہ بازیاں کرتے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے ظلم کاارتکاب کرتے ہیں۔مگرانہیں پرواہ تک نہیں ہوتی مگرجب اللہ تعالیٰ کاکوئی نبی دنیا میں آتاہے تووہ کہتاہے اگرتم کسی کو جھوٹ بولتے دیکھو تو اسے منع کرو۔اگر کوئی ظلم کررہاہوتواسے ظلم سے روکو۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تویہاں تک فرمایا کہ ایمان کی علامت یہ ہے کہ جب مومن کوئی بری بات دیکھے توہاتھ سے اس کا ازالہ کرے۔اوراگرہاتھ سے ازالہ نہ کرسکتاہوتوزبان سے روکنے کی کوشش کرے۔اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکتاہوتواپنے دل میں ہی بُرامنائے۔مگرروحانی مردوں میں یہ تینوں باتیں نہیں پائی جاتیں۔وہ برائی ظلم اور جھوٹ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔مگرنہ تووہ ہاتھ سے اس کاازالہ کرتے ہیں نہ زبان سے کسی کومنع کرتے ہیں اورنہ ہی کسی کے برے فعل پر اپنے دل میں ہی برامناتے ہیں(مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان )۔بے شک بعض دفعہ وہ دکھاوے کے طورپر زبان سے کہہ بھی دیتے ہیں۔مگرکہتے وقت ان کے چہرے پر غیرت کے آثار نہیں پائے جاتے۔مگرزندہ انسان کی یہ علامت ہے کہ اس کے اند ر ان تینوں باتو ں میں سے ایک بات ضرور ہوگی۔وہ بری بات کودیکھ کر یاتوہاتھ سے اس کا ازالہ کرے گا۔یازبان سے دوسر ے کو روکے گا۔اوریاپھر دل میں ہی برامنائے گا۔اس کی ایک نمایاں مثال حضرت عثمان بن مظعونؓ کاواقعہ ہے۔حضرت عثمان بن مظعونؓ چھوٹی عمر میں ہی اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔توعثمان بن مظعونؓ نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا۔جب و ہ تیار ہوگئے تومکہ کے ایک رئیس نے ان سے کہا کہ تمہاراباپ میرادوست تھا اوروہ میرابھائی بناہواتھا۔اگر تم اس وجہ سے ہجرت کررہے ہوکہ لوگ تمہیں تکلیفیں دیتے ہیں تومیں سارے شہر میں اعلان کردیتاہوں کہ عثمان آج سے میری پناہ میں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ لوگ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔حضرت عثمان بن مظعونؓ نے اس کی بات مان لی۔اوراس نے دستور کے مطابق اعلان کردیا کہ میںعثمانؓ کو پناہ دیتاہوں۔اس کانتیجہ یہ ہواکہ لوگ انہیں تکلیفیں پہنچانے سے رک گئے۔اوروہ آزادانہ طور پر ادھر ادھر پھرنے لگے مگرجب انہوں نے دیکھا کہ مکہ کے لوگ دوسرے مسلمانوں پر برابر ظلم کررہے ہیں توان کی غیرت نے یہ برداشت نہ کیا کہ وہ آرام سے پھرتے رہیں اوران کے بھائی اسلام کی وجہ سے تکلیفیں اٹھائیں۔وہ