تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 110

کامصنف ابو اسمٰعیل لکھتاہے کہ ثمود قوم بصریٰ سے لے کر (جوشام کاایک شہرہے )عدن تک پھیلی ہوئی تھی اور وہیں ان کی حکومت تھی۔پھر حمیر اورسباکی طاقت کے زمانہ میں جب ان کو ہجرت کرنی پڑی تواس وقت وہ جنوب سے شمال کو نکل گئے۔چنانچہ پہلے حجاز پھر تہامہ اورپھر حجر میں چلے گئے (عرض القرآن صفحہ ۱۸۸)۔پس وہ لوگ جو توحید کے زیر اثر تھے انہوں نے تو حضرت صالح علیہ السلام کومان لیا۔مگرجوتوحید سے دورعلاقہ کے رہنے والے تھے انہوں نے آپ کی سخت مخالفت کی۔حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں سمجھایامگربجائے اس کے کہ وہ نصیحت حاصل کرتے انہوں نے کہا اے صالح !ہم توتجھے سبز قدماسمجھتے ہیں۔ہمیں تویہ دکھائی دیتاہے کہ تیری تعلیم سے جوہماری قوم میں تفرقہ پیداہواہے یہ ہماری قوم کو تباہ کردے گا۔ان نادانوں نے یہ نہ سمجھا کہ صالح ؑ ہمیں زندہ کرنے کے لئے آیاہے۔یہ ہمیں قعرِمذلّت سے اٹھا کر بام رفعت پر پہنچانے کے لئے آیاہے۔انہوں نے صرف یہ دیکھ کرکہ صالح ؑ کے آنے سے قوم کے اندر ایک ہلچل پیداہوگئی ہے اور کچھ لوگوں کے اندر یہ احساس پیداہوگیاہے کہ ہم ایک غلط راستہ پر چل رہے تھے اب ہمیںاپنی اصلاح کرنی چاہیے اور برے اعمال سے اجتناب اختیارکرناچاہیے۔یہ کہنا شروع کردیا کہ قوم میں یہ بگاڑ صرف صالح ؑ کی نحوست کی وجہ سے پیداہواہے۔اگرصالح نہ آتاتوہماری یکجہتی کویہ صدمہ نہ پہنچتا۔حالانکہ مردہ انسان خواہ لاکھوں بھی ہوں دنیا میں کوئی تغیر پیدا نہیں کیاکرتے۔تغیر ہمیشہ زندہ وجودوں کے ساتھ وابستہ ہوتاہے خواہ ان کی کتنی ہی قلیل تعداد کیوں نہ ہو۔صالح ؑ کے آنے سے پہلے وہ لوگ مردہ تھے۔پھراللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نبی کے ذریعہ ان کی اصلاح کاسامان کیا۔مگربجائے اس کے کہ وہ اس سامان پر اللہ تعالیٰ کاشکر بجالاتے انہوں نے حضرت صالح ؑ کو قوم کا بیڑہ غرق کرنے والا قراردےدیا۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام کے لئے کھڑاکیاتھا۔اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی قوم نے تفرقہ انداز قرار دیاتھا۔اسی طرح کفار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی قومی وحدت کوپارہ پارہ کرنے والا قرار دیا۔بلکہ وہ ایک دفعہ حضرت ابوطالب کے پاس محض اس لئے آئے کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں اورانہیں توحید کی اشاعت سے روکنے کی کوشش کریں۔کفار مکہ کی یہ گھبراہٹ بالکل ویسی ہی تھی جیسے حضرت صالح ؑ کے زمانے میں ان کے مخالفین نے جب انہیں توحید کی تعلیم دیتے دیکھا توانہوں نے بگڑ کر حضرت صالح ؑ کو منحوس اور سبز قدما کہنا شروع کردیا۔مگرنہ حضرت صالح ؑ نے خدائے واحد کاپیغام پہنچاناترک کیا اورنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی تعلیم ترک کی۔اورآخر اس کایہ نتیجہ نکلا کہ ایک دن مردہ عر ب زند ہ ہوگیا۔آخر ایک زندہ اورمردہ میں کیافرق ہوتاہے۔یہی فرق ہوتاہے کہ مردہ کوکسی چیز کااحساس نہیں ہوتا۔اس کے سامنے اس کے کسی عزیز ترین وجود