تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 109
ہے کہ وہ مبارک چہرے والا ہے۔اسی طرح انسانی اعمال کوبھی خواہ وہ اچھے ہوں یا برے طائر کہتے ہیں۔اورستارے کو بھی طائر کہتے ہیں کیونکہ ستاروں سے بھی نحوست اور بھلائی کے حالات معلوم کئے جاتے ہیں (اقرب) تُفْتَنُوْنَ۔فُتِنَ الرَّجُلُ فِیْ دِیْنِہٖ کے معنے ہوتے ہیں مَالَ عَنْہُ۔اپنے دین سے علیحدہ ہوگیا اورفُتِنَ فُلَانٌ کے معنے ہوتے ہیں اَصَابَتْہُ فِتْنَۃٌ۔فَذَھَبَ مَالُہٗ أَوْعَقْلُہٗ۔اس پر کوئی مصیبت نازل ہوئی جس کی وجہ سے اس کامال یااس کی عقل جاتی رہی۔تفسیر۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ ثمود کا ذکر فرماتا ہے۔یہ قوم یہود کی ترقی کے زمانہ سے پہلے گذر چکی تھی اور حضرت موسیٰ ؑ کے قریب زمانہ کی تھی۔مگر اس کا ذکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذکر کے بعد اوران کے واقعہ سے ملاکر اس لئے کیا گیاہے کہ ثمود کی قوم کابہت ساعلاقہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ماتحت آگیاتھا۔قرآن کریم تاریخ کی کتاب نہیں کہ تاریخوں کے لحاظ سے واقعات بیان کرے۔قرآن کریم مذہب اور تمدن کی کتاب ہے۔اس لئے مذہب اور تمد ن کے لحاظ سے جو واسطہ مختلف قوموں میں تھااس کے لحاظ سے وہ ان کا ذکر کرتاہے۔چنانچہ ثمود جوپہلے گذرے تھے مگران کا علاقہ چونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ماتحت آگیاتھا۔اوریہودی تمدن نے ان پر اثر ڈال لیاتھا اورانہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی اطاعت قبول کرلی تھی اس لئے ان کی قوم کا ذکر حضرت سلیمان علیہ السلام کی قوم کے بعد کردیاگیا۔کیونکہ درحقیقت جن لوگوںکانام جنّ رکھا گیاہے وہ ثمود کی قوم کے ہی لوگ تھے۔جنہیں ایک غیر قوم کے افراد ہونے کی وجہ سے جنّ کہہ دیاگیا۔پس چونکہ ان کی زنجیر یہودیوں کی زنجیر میں مل گئی تھی اور ان کا ایک ادنیٰ حصہ ہوگئی تھی اس لئے ان کا ذکر یہودیوں کے ذکر کے بعد کیاگیا۔قومِ ثمود کے متعلق فرماتا ہے کہ ان کے نبی حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں توحید کی تعلیم دی تھی۔مگر بجائے اس کے کہ وہ اس کی آواز کوسنتے اوراس پر لبیک کہتے انہوں نے جھگڑااور فساد شروع کردیا جس کانتیجہ یہ ہواکہ ان میں دوگروہ ہوگئے۔کچھ لوگوں نے تو حضرت صالح علیہ السلام کو مان لیا۔اور کچھ لوگوں نے انکار کردیا۔اصل بات یہ ہے کہ ثمود عادکے قائم مقام تھے اوریہ لوگ عرب کے جنوب سے بڑھتے ہوئے عرب کے شمال کے تمام علاقوں میں پھیل گئے تھے۔اوربہت سی موحّد قوموں کاان سے تعلق پیداہوگیاتھا۔چنانچہ ’’فتوح الشام‘‘