تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 108

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اورہم نے ثمود کی طر ف ان کے بھائی صالح کو ضرو ررسول بناکربھیجاتھا۔(یہ کہتے ہوئے )کہ اللہ (تعالیٰ)کی اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِيْقٰنِ يَخْتَصِمُوْنَ۰۰۴۶قَالَ يٰقَوْمِ لِمَ عبادت کرو۔پس وہ سنتے ہی دوگروہ ہوگئے جوآپس میں جھگڑنے لگے۔اس (یعنی صالح ؑ ) نے کہا اے میری قوم! تَسْتَعْجِلُوْنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تم خوشحالی کے آنے سے پہلے خراب حالی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو؟کیا تم خدا(تعالیٰ) سے اپنے گناہوں پر تَسْتَغْفِرُوْنَ۠ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۰۰۴۷قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ استغفار نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔انہوں نے کہا(اے صالح!)ہم نے (جتناسوچاہے)تجھے اور تیرے وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ ساتھیوںکو منحوس ہی پایاہے (یعنی تم لو گ اپنی قوم کے لئے کسی ترقی کانہیں بلکہ تباہی کاموجب ہوگے)اس (یعنی تُفْتَنُوْنَ۰۰۴۸ صالح) نے کہا۔تمہاری نحوست کاسبب تواللہ کے پاس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم ہو جس کو آزمائش میں ڈالا گیاہے۔حلّ لُغَات۔اِطَّیَّرْنَا۔اِطَّیَّرْنَا اصل میں تَطَّیَّرَ سے ہے اوراس میں قلب اورادغام کاقاعدہ استعمال ہواہے اور تَطَیَّرَ کے معنے ہیں تَشَاءَ مَ یعنی نحوست کاانداز ہ لگایا یانحوست محسوس کی۔اہل عرب کہتے ہیں اِطَّیَّرَ بِہٖ وَاِطَّیَّرَ مِنْہُ اور مطلب یہ ہوتاہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے نحوست کے آثار دیکھے (اقرب) طَائِرُکُمْ۔طَائِر کے معنے پرندے کے ہیں۔لیکن عر ب لوگ چونکہ پرندوں سے شگون لیا کرتے تھے اس لئے شگون کے لئے بھی طَائِر کالفظ بول لیا جاتاہے چنانچہ مسافر کورخصت کرتے وقت دعا کے طورپر کہتے ہیں سِرْ عَلَی الطَّائِرِ الْمَیْمُوْنِ۔مبارک شگون پر چل۔اسی طرح کہتے ہیں ھُوَ مَیْمُوْنُ الطَّائِرِ۔اورمراد یہ ہوتی