تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 105

اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی شکر گذار ی کے جذبات کااظہار کرنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے پھر پہلے مضمون کی طرف رجوع کیا اورفرمایا کہ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا۔یہ تخت جو تم لائے ہو ہے تواچھا لیکن میں یہ چاہتاہوں کہ اس کے تخت سے بھی زیادہ اچھا تخت ہو۔پس تم ملکہ کے لئے اس کے تخت کو حقیر بنادو یعنی ایسا تخت بنائو کہ اسے اپنا تخت حقیر نظر آنے لگے۔میں یہ دیکھناچاہتاہوں کہ کیا وہ اس بات کو دیکھ کرتسلیم کرلیتی ہے کہ نہیں کہ مجھ پر خدا تعالیٰ کے بڑے فضل ہیں یااپنے گھمنڈ پر قائم رہتی ہے۔فَلَمَّا جَآءَتْ قِيْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ پس جب و ہ آگئی توکہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے۔اس پر اس نے کہا۔کہ یوں معلوم ہوتاہے کہ یہ وہی اُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِيْنَ۰۰۴۳وَ صَدَّهَا مَا ہےاورہم کو اس سے پہلے ہی علم حاصل ہوچکاتھا اورہم (تیرے )فرمانبردار بن چکے تھے۔اوراس (یعنی كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ۰۰۴۴ سلیمانؑ)نے ملکہ کو اللہ (تعالیٰ)کے سواپرستش کرنے سے روکا۔وہ یقیناً کافرقوم میں سے تھی۔تفسیر۔جب ملکہ آگئی تواس سے کہا گیا کہ یہ تخت جو ہمارے بادشاہ کے پاس پڑاہے کیاتمہاراتخت بھی ایسا ہی ہے۔اس پر اس کاگھمنڈ اس کے راستہ میں حائل ہوگیا۔اوربجائے یہ کہنے کہ یہ تواس سے بہت اعلیٰ ہے اس نے کہا،یوں معلوم ہوتاہے کہ گویایہ ویساہی تخت ہے۔مگرپھر کہنے لگی ان تدبیروں کی کیاضرورت تھی۔ہم تو سلیمانؑ کے دین کے حالات سن کر پہلے ہی معلوم کرچکے ہیں کہ اس کادین سچاہے۔اورہم فرمانبردار بن چکے ہیں۔تب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو ان چیزوں کی پرستش کرنے سے روکا جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پرستش کرتی تھی او راسے وعظ و نصیحت کی کیونکہ وہ کافرقوم میں سے تھی۔