تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 104
اور چیز منگوائو۔اورفرمایا۔اے میرے سردارو پیشتراس کے کہ وہ لوگ میرے پاس فرمانبردار ہوکر آئیں ملکہ کاتخت کون میرے پاس لائے گا۔وہ لوگ جو خاص باڈی گارڈ تھے ان کا ایک سردار بولاکہ آپ کے چڑھائی کرنے سے پہلے میں وہ تخت لے آئوں گا۔چونکہ وہ سردار لشکر تھا۔اس کوپتہ تھا کہ اس لشکر کایہاں کتنے عر صہ تک پڑائو ہوگا۔اس لئے اس نے اندازہ کرلیا کہ اتنے دنوں میں ملکہ کومرعوب کرکے وہ تخت لایاجاسکتاہے اورساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ میں ایک طاقتور سردار ہوں اوراس چھوٹے سے ملک کی فوج میرامقابلہ نہیں کرسکتی۔اورمیں آپ کا مطیع بھی ہوں۔اس مال کے لانے میں کسی قسم کی خیانت مجھ سے نہیں ہوگی۔لیکن ایک اَورشخص جس کو دینی علم حاصل تھا اس نے کہا کہ آپ کے آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے میں وہ تخت لے آئوں گا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ طرف کے معنے خراج کے ہوتے ہیں۔مگرمیری نظر سے اب تک یہ معنے نہیں گذرے۔اس لئے جب تک وہ معنے نہ ملیں میں تویہی کہوں گا کہ اس فقرہ کے وہی معنے ہیں جوعام طور پربول چال میں ا ستعمال ہوتے ہیں۔یعنی جلدی کے۔چنانچہ جب کسی کام کے جلدی کرنے کا ذکرکرناہوتویہی کہا کرتے ہیں کہ آنکھ جھپکنے میں یہ کام ہوجائے گایاآنکھ جھپکنے سے پہلے یہ کام ہوجائے گا۔پس جب ایک سردار نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ ملکہ سبا کاتخت اس کی فوج سے لڑ بھڑکراس لشکر کے کوچ کرنے سے پہلے لاسکتاہے۔تو ایک یہودی عالم بول پڑااوراس نے کہا کہ وہ تخت میں اس شخص کے تخت لانے سے بھی پہلے حاضر کردیتاہوں۔یعنی جتنی دیر میں یہ غیر یہودی سردار یاادومی یاعرب سردار کام کرے گا اس سے پہلے میں یہ کام کرلوں گا۔یعنی ایک نیااور اعلیٰ درجہ کاتخت بنواکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر کردوں گا اور چونکہ وہ یہود کاملک تھا۔اس لئے عبرانی عالم کویقین تھا کہ یہودی ماہرین صنعت میرے لئے بہت جلد یہ کام کردیں گے۔پس اس نے عفریت سے بھی پہلے عرش لانے کاوعدہ کیا۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے یہ تخت پیش کیا گیا۔اورآپ نے اسے دیکھاتوفرمایا۔یہ میرے رب کافضل ہے کہ اس نے ایسے ایسے ہوشیار افسر مجھے عطاکئے ہیں اورمیری ہرتمنا پوری ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ یہ دیکھناچاہتاہے کہ میں اس کا شکر گذار بندہ بنتاہوں یاناشکرا۔اور چونکہ سورئہ بقرۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَاکَفَرَ سُلَیْمٰنُ اس لئے قرآن کریم نے ہی اس بات کی وضاحت کردی کہ ان انعامات کے نتیجہ میں سلیمانؑ شکر گذار بناتھا ناشکرانہیں بناتھا۔پھرفرماتا ہے کہ شکر گذار بنناخود انسان کے لئے فائدہ بخش ہوتاہے اورناشکرگذار ہونے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنی ذات میں کامل ہے او راسے کسی کی احتیاج نہیں۔