تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 106
قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ اوراسے کہا گیاکہ محل میں داخل ہوجائو۔پس جب اس نے اس (محل)کودیکھاتواس کوگہراپانی سمجھا كَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ اورگھبراگئی۔تب اس (یعنی سلیمانؑ) نے کہا۔یہ تومحل ہے جس میں شیشہ کے ٹکڑے لگائے گئے ہیں۔قَوَارِيْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ تب وہ (ملکہ )بولی۔اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔اورمیں سلیمانؑ کے ساتھ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۴۵ رب العالمین خدا پر ایمان لاتی ہوں۔حلّ لُغَات۔اَ لصَّرْحُ۔اَلصَّرْحُ(۱)اَلْقَصْرُ۔محل۔(۲)کُلُّ بِنَآءٍ عَالٍ۔ہراونچی عمارت۔(اقرب) لُـجَّۃٌ۔لُـجَّۃٌ کے معنے ہیں مُعْظَمُ الْمَآءِ۔گہراپانی۔اَلْمِرْآۃُ۔آئینہ۔اَلْفِضَّۃُ۔چاندی۔(اقرب) مُـمَرَّدٌ۔مُـمَرَّدٌ مَرَّدَ سے اسم مفعول کاصیغہ ہے اور مَرَّدَ الْبِنَآءَ کے معنے ہیں مَلَّسَہ وَسَوّٰاہُ عمارت کو درست اور عمدہ اور نرم بنایا۔مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِیْرِ کے معنے ہیں جس پر شیشے لگائے گئے ہوں۔اوراسے نازک بنایا گیاہے۔قَوَارِیْرُ۔قَوَارِیْرُقَارُوْرَۃٌ کی جمع ہے اور قارورہ کے معنے شیشہ کے ہیں (اقرب)پس قَوَارِیْرُ کے معنے ہوں گے شیشے۔تفسیر۔مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ملکہ بلقیس سے شادی کرناچاہتے تھے۔مگر ان کو جنوں نے خبر دی کہ اس کی پنڈلیوں پر بکری کی طرح بال ہیں۔انہوں نے اس بات کی تحقیق کے لئے ایک عظیم الشان محل بنایا۔اوراس میں ایک بہت بڑ ا حوض کھدواکر اسے پانی سے لبریز کردیا اورپھر اس پر بلور کے ٹکڑوں کا ایسا فرش لگوایا کہ انسانی نگاہ دھوکہ کھا جائے اوروہ یہ سمجھے کہ صحن میں پا نی بہہ رہاہے۔جب یہ محل تیار ہوگیا۔توانہوں نے بلقیس کو وہ محل ٹھہر نے کے لئے پیش کیا۔جب وہ صحن میں سے گذرنے لگی۔توچونکہ فرش پر شیشہ لگاہواتھا اوراس