تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 103
بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّيْ عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ قوموںمیں سے)ایک سرکش سردار نے کہا۔آپ کے (اس)مقام سے جانے سے پہلے میں وہ (عرش )لے اَمِيْنٌ۰۰۴۰قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ آئوں گا۔اورمیں اس بات پر بڑی قدرت رکھنے والا اورامانت دار ہوں۔(اس پر)اُس شخص نے جس کو (الٰہی) بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا کتاب کاعلم حاصل تھا کہا کہ میں تیرے پاس اس( تخت )کو تیرے آنکھ جھپکنے سے پہلے لے آئوں گا۔پس جب عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ١ۖ۫ لِيَبْلُوَنِيْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اس نے (یعنی سلیمان ؑ نے)اس کو پاس رکھاہوادیکھا۔تواس نے کہا۔یہ میرے رب کے فضل کی وجہ سے ہواہے اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتاہوں یا ناشکری کرتاہوں۔اورجوشکرکرےوہ اپنی جان کے فائدہ کے لئے فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ۰۰۴۱قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ ایساکرتاہے ا ورجوناشکری کرے تویقیناً میرارب بے نیاز (اور)بڑی سخاوت کرنے والا ہے۔(پھر)اس نے کہا اَتَهْتَدِيْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُوْنَ۰۰۴۲ کہ اس (یعنی ملکہ)کے لئے اس کاعرش حقیر کرکے دکھائو۔ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ ہدایت پاتی ہے یاان لوگوں میںسے بنتی ہے جو ہدایت نہیں پاتے۔حلّ لُغَات۔اَلْعِفْرِیْتُ۔اَلْعِفْرِیْتُکے معنے ہیں اَلنَّافِذُ فِی الْاَمْرِ اَلْمُبَالِغُ فِیْہِ مَعَ دَھَاءٍ۔کسی کام کو کرگذرنے والا۔اَلْخَبِیْثُ الْمُنْکَرُ۔بُرااورناپسندیدہ۔(اقرب) تفسیر۔پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوچاکہ ہدہد کے اس لائے ہوئے تحفہ سے توکچھ نہیں بنتا۔کوئی