تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 102
جرأت ہوئی تم لوگ تو اس قدر ذلیل تھے کہ تم گوہ کا گوشت کھایا کرتے تھے اور اپنی مائوں سے نکاح کرلیا کرتے تھے۔میں تمہارا لحاظ کرتے ہوئے تمہارے ہر سپاہی کو ایک ایک اشرفی اور ہر افسر کو دودو اشرفی دوں گا۔تم واپس چلے جائو۔اور حملہ کا ارادہ ترک کردو۔اس صحابیؓ نے جواب دیا۔بادشاہ ! تم ٹھیک کہتے ہو۔ہماری یہی حالت تھی۔ہم گوہیں کھاتے تھے اور مائوں سے نکاح کر لیا کرتے تھے۔لیکن اب ہماری وہ حالت نہیں رہی۔اب خدا تعالیٰ نے ہم میں اپنا ایک رسول مبعوث کیاہے جس نے ہمارا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور اس نے ہمیں حلال اور حرام کی تمیز سکھا دی ہے۔اب وہ زمانہ چلا گیا جب لوگ ہمیں رشوت دے کر اپنی بات منوا لیتے تھے۔اب جب تک ہم تمہارا ملک فتح نہ کرلیں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔بادشاہ نے کہا۔میں تمہیں اس گستاخی کی سزا دوںگا۔چنانچہ اس نے اپنے ایک سپاہی کو بلایا اوراسے حکم دیا کہ ایک بورا مٹی سے بھر کر لائو۔جب وہ مٹی کا بورا لے آیا تو اس نے مسلمان افسر سے کہا۔آگے آئو۔و ہ آگے آگئے ،اس نے کہا۔نیچے جھکو۔اس پر وہ نیچے جھک گئے۔اس نے مٹی کا بورااس کی پیٹھ پر رکھ دیا اورکہنے لگا۔جائو میں اس بورے سے زیاد ہ تمہیں کچھ دینے کے لئے تیار نہیں۔میں نے تمہیں اشرفیاں پیش کی تھیں۔لیکن تم نے انہیں قبول نہ کیا۔اب تمہیں اس مٹی کے بورے کے سوااور کچھ نہیں مل سکتا۔وہ صحابی ؓ بورااٹھا کر جلدی سے باہر نکل گئے اورگھوڑے پر سوار ہوکر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا آجائو۔بادشاہ ایران نے ایران کی زمین خود اپنے ہاتھ سے ہمارے سپرد کردی ہے۔اس کے بعد انہوںنے اپنےگھوڑوں کو ایڑ لگائی اورلشکر کی طرف روانہ ہوگئے۔مشرک تووہمی ہوتاہے۔ایران کے بادشاہ نے جب یہ بات سنی تواس نے لوگوں سے کہا جلدی جائو اورراس مسلمان افسر سے مٹی کابورا لے آئو۔یہ تو بڑی بدشگونی ہوئی۔کہ میں نےاپنے ملک کی مٹی اپنے ہاتھ سے ان کے حوالے کردی۔لیکن وہ اس وقت تک بہت دورنکل چکے تھے (البدایۃ النھایۃ جلد ۷ غزوۃ قادسیۃ)۔ملکہ سبا نے بھی چاہاکہ کچھ ہدیئے اورتحائف بھجواکر حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس حملہ سے باز رکھنے کی کوشش کرو ں۔مگرانہوں نے ان تحائف کوردّ کردیا۔کیونکہ وہ تحفہ نہیں تھے بلکہ ایک رشوت تھی۔قَالَ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ (اس کے بعد )اس نے (اپنے درباریوں سے مخاطب ہوکر )کہااے درباریو !تم میں سے کون اس کےتخت کو يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ۰۰۳۹قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ میرے پاس لے آئےگاپیشتراس کے کہ وہ (لوگ)فرمانبردار ہوکر میری خدمت میں حاضر ہوں۔(پہاڑی