تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 101
یہ سوچا ہے کہ میں انہیں ایک تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ میرے بھیجے ہوئے آدمی کیا جواب لاتے ہیں۔پھر اس نے ایک تحفہ ہد ہد کے سپرد کیا۔یہ چڑیا اپنی چونچ میں جو معزز تحفہ لے گئی ہوگی معزز قارئین خود ہی ا س کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔حضرت سلیمان ؑ نے بھی اس تحفہ کو دیکھتے ہی کہا کہ کیا تم یعنی ملکہ کے ملک والے لوگ میری مال سے مدد کرنا چاہتے ہو۔ہُدہُد کی چونچ میں ایک دھیلے کاد سواں حصہ ہی آیا ہوگا۔جب وہ تحفہ حضرت سلیمان ؑکے آگے رکھا گیا ہوگا تو ان کو کس طرح فوری طورپر یقین آگیا ہوگا کہ ملکہء سبا کے پاس ہر قسم کا مال موجود ہے۔مگر خیر ہد ہد جو کچھ لایا ہوگا اس کو ہم خوب سمجھ سکتے ہیں۔چنانچہ اسے دیکھ کر حضرت سلیمان ؑ بولے کہ یہ کیا حقیر چیز تم میرے پاس لائے ہو۔خدا نے اس سے بہتر چیزیں مجھے دے رکھی ہیں۔تمہارے جیسے ذلیل لوگ ہی اس ہد یہ پر خوش ہوسکتے ہیں جس کو ہُدہُد اٹھالایا ہے۔پھر فرمایا۔اے ہُد ہُد ! ا ن کی طرف لوٹ جا۔میں اب ایسا لشکر لے کر ان پر چڑھائی کروں گا جس کے مقا بلہ کی طاقت ان میں نہیں ہوگی۔کیونکہ اس لشکر میں ہُدہُد بھی ہوںگے۔چڑیاں بھی ہوں گی۔پدیاں بھی ہوں گی اور بئے بھی ہوں گے اور میں ملک سبا کے لوگوں کو ملک سبا سے ذلیل کر کے نکال دوں گا۔اور وہ دیر تک ایسے زبردست لشکر کی ماتحتی میں رہیں گے۔(صاغر اسم فاعل ہے جو دوام پر دلالت کرتا ہے ) حضرت سلیمان علیہ السلام کا اس ہدیہ پر ناراض ہونا درحقیقت اس لئے تھا کہ پرانے زمانے میں بادشاہوں کا یہ طریق تھا کہ وہ زیادہ زبردست بادشاہوں کا مونہہ رشوت سے بند کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔جب بلقیس کے تحائف حضرت سلیمان علیہ السلام کو پہنچے تو انہوں نے سمجھا کہ اس نے مجھے بھی ایسا ہی بداخلاق اور رشوت خور سمجھا ہے اور اس کے اس فعل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔یہ رشوت کی پیش کش ایسی ہی تھی جیسے مسلمانوں نے جب ایران پر حملہ کیا تو بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا۔کہ میں یقین نہیں کرسکتا کہ عرب کے رہنے والے میرے ملک پر حملہ آور ہوئے ہوں۔وہ تو نہایت ذلیل لوگ ہیں۔انہیں میرے ملک پر حملہ آور ہونے کی کیسے جرأت ہوسکتی ہے۔تم ان کے جرنیل کو پیغام دو۔کہ مجھ سے آکر ملے۔چنانچہ اس کا پیغامبر اسلامی جرنیل کے پا س پہنچا۔انہوں نے اپنے ایک صحابی ؓافسر کو ایک دستہ کے ہمراہ بادشاہ ایران کے پاس بھیج دیا۔صحابہؓ کے ہاتھ میں بڑے بڑے نیزے تھے اور دربار میں لاکھوں روپے کی قالینیں بچھی ہوئی تھیں۔صحابہؓ ان قالینوں پر اپنے نیزے مارتے ہوئے گزرگئے۔بادشاہ کو سخت غصہ آیا کہ لاکھوں روپے کے قالین ہیں لیکن یہ لوگ ان پر نیزے مارتے ہوئے آرہے ہیں۔جب وہ صحابیؓ قریب پہنچ گئے تو بادشاہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں کو مجھ پر حملہ آور ہونے کی کس طرح