حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 89 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 89

سند ان کو مل گئی۔کسی ہادی اور مصلح کی ایسی سچّی تاثیر اور تزکیہ کا پتہ دو۔میں نے ہزاروں ہزار کتابیں پڑھی ہیں اور دنیا کے مختلف مذاہب کو ٹٹولا اور تحقیق کیا ہے۔میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی حیرت انگیز تبدیلی، کوئی ہادی، پیغمبر، نبی، رسُول، اپنی قوم میں نہیں کر سکا جو ہماری سرکار نے کی! اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ یہ چھوٹی سی بات نہیں۔یہ بہت بڑی عظیم الشان بات ہے۔اس وقت بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوّتِ قدسی اور تاثیر افاضۂ برکات کا ایک زندہ نمونہ موجود ہے جس سے آپؐ کی شان اور ہمّت اور علوّ مرتبت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔کہ وہ تیرہ سو سال کے بعد بھی اپنی تاثیریں ویسی ہی زبردست اور قوی رکھتا ہے جس سے ہم ایک اربعہ متناسبہ کے قاعدہ سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس کی تاثیریں ابدی ہیں اور وہ ابدالاٰباد کے لئے دنیا کا ہادی اور رسول ہے۔اس وقت ہمارا امام زندہ نمونہ ہے ان برکات اور فیوض کا۔جس نے آ کر ان فیوض اور برکات اور قدسی تاثیروں کا ثبوت دیا ہے۔جو صحابہ کی کامیاب قوم پر رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی فیضِصحبت سے ہوئیں۔اگر دنیا میں کسی اور نبی کی برکات اور فیوض اس قسم کے ہیں تو پھر ہم ان کے ماننے والوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی قوم کا تزکیہ کیا تھا تو اس کے ثبوت کے لئے آج کوئی مزکّی نفس پیش کرو! اوروں کو جانے دو۔یسوع مسیح کو خدا بنانے والی قوم اس کی خدائی کا کوئی کرشمہ اب ہی دکھائے۔مگر یہ سب مُردہ ہیں۔جو ایک مُردہ کی پرستش کرتے ہیں۔اس لئے وہ زندوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے! غرض دوسرا کام آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ وہ آیات جو آپؐ نے پڑھ کر سنائیں۔اپنے عمل سے اور اس کی تاثیروں سے بتا دیا کہ اس کا منشاء کیا ہے؟ منشاء بھی بتا دیا اور عمل کرا کر بھی دکھا دیا۔کیونکہ کتاب کا پڑھنا اور اس کے مطالب و منشاء سے آگاہ کر دینا کوئی بڑا کام نہیں۔جب تک کوئی ایسی بات نہ ہو کہ عمل کرنے کی رُوح پیدا ہو جاوے۔کتاب کا پڑھنا بھی صائع ہو جاتا ہے۔جب کہ کوئی سننے کے لئے تیار نہیں۔جب تک پڑھنے والا خود نہیں سمجھتا۔دوسروں کو سمجھا نہیں سکتا۔اس لئے نہایت ضروری ہے کہ پہلے تعلیمات صحیحہ آ جاویں۔پھر ان کو پہنجایا جاوے اور سمجھایا جاوے کہ کیسے عمل در آمد ہوتا ہے۔یا خود کر کے دکھایا جاوے۔یہ ضروری مسئلہ ہے۔غور کر کے دیکھو۔کہ کیا یہود کے سامنے ایک برا بھاری انبار کتابوں کا نہ تھا۔کیا مجوس کے پاس کتابیں نہ تھیں۔کیا عیسائی اپنی بغل میں کتابِ مقدّس مارے نہ پھرتے تھے۔اور کیا ان میں عمدہ باتیں بالکل نہ تھیں؟ تھیں اور صرور تھیں۔مگر ان میں اگر کچھ نہ تھا تو صرف یہی نہ تھا کہ ان پر عمل کرا دینے