حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 90
والا کوئی نہیں تھا۔جب تک ایک روح اس قسم کی نہ آوے جو انسان کو مزکّی بنا دے اس وقت تک انسان ان تعلیمات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔۱؎ مَیںبیرونی مذاہب کو چھوڑ کر اندرونی فرقوں کی طرف توجہ کرتا ہوں۔کیا یہی قرآن شریف جو ہمارے سرورِ عالم سیّد ولد آدم صلی اﷲ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔اس وقت سُنّیوں۔شیعوں ، خوارج اور اور بہت سے فرقوں کے پاس نہیں! کیا واعظ، امام، قاری اور دوسرے لوگ ان میں نہیں ہیں؟ مگر سب دیکھیں اور اپنی اپنی جگہ غور کریں کہ کیا اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ یہ سچّی بات ہے کہ جب تک کوئی مزکّی نہ ہو تو تعلیمات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔یہی وجہ تھی کہ رسول اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاخَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِی یہ صدی جس میں مَیں ہوں۔بڑی خیروبرکت ۱؎ الحکم ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ تا ۹ بھری ہوئی ہے۔اور حقیقتیں وہ صدی بڑی ہی بابرکت تھی کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس میں موجود تھے اور آپ کی وساطت سے لوگ تزکیہ سے متمتع ہوتے تھے پھر آپؐنے فرمایا کہ دوسری صدی میں بھی اس پہلی کی طرح خیروبرکت والی ہو گی۔اور پھر تیسری پر بھی اس پہلی کا اثر پڑے گا۔مگر اس کے بعد جُھوٹ پھیل جاوے گا۔اب غور طلب یہ امر ہے۔کہ کیا قرآن شریف اس چوٹھی صدی میں نہ رہا تھا جس میں جُھوٹ کے پھیلنے کی آپؐ نے پیشگوئی فرمائی، کیا تعامل اور حدیث ان میں نہ تھی۔پھر وہ کیا بات ہے جو یَفْشُوا الکَذِبُ کہا؟ بات اصل یہی ہے کہ مزکّی ان میں نہ رہا، مزکّی کو اُٹھے ہوئے تین سو سال گزر گئے۔بہت سے نادانوں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم مہدی یا مسیح یا امام کی کیا ضرورت رکھتے ہیں جبکہ دلائل سے نتائج تک پہنچ جاتے ہیں۔تو پھر امام کی کیا ضرورت ہے؟ مَیں نے ان سے پوچھا ہے کہ اگر تمہیں امام کی کوئی ضرورت نہیں۔تو اتنا بتاؤ کہ کتاب کی موجودگی میں معلم کی کیا ضرورت ہے؟ مَیں نے ان سے پوچھا ہے کہ اگر تمہیں امام کی کوئی ضرورت نہیں۔تو اتنا بتاؤ کہ کتاب کی موجودگی میں معلم کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔اگر کہو۔بولی کے لئے ضرورت ہے تو میں پھر کہتا ہوں۔اچھا بولی سمجھتے ہو۔ایک عمدہ پڑھا ہوا آدمی جس نے قرآن کو خوب پڑھا ہے اور فرض کرو۔وہ قاری بھی ہو۔وہ اپنی جان پر تجربہ کر کے صاف صاف بتا دے کہ گھر میںلمبی قرأت کی نمازیں کس قدر پڑھتا ہے۔اور باہر کس قدر۔جس قدر جماعت میں التزام کیا جاتا ہے۔کیا گھر میں بھی ویسا ہی التزام کیا جاتا ہے؟ لیکن جب دیکھا جاتا ہے کہ باوصفیکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب نماز پڑھائے تو امام کو جاہیئے کہ مقتدیوں کا لحاظ کرے۔ان میں کوئی ضعیف ہے۔کوئی بیمار ہے وغیرہ۔اس لئے ان کے لحاظ پر چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھے لیکن تنہائی میں نمازوں کو لمبا کرے۔مگر غور کر کے دیکھ لو کہ معاملہ بالکل اس کے برخلاف اور قضیہ بالعکس ہے۔مَیں نے بہت ٹٹولا ہے اور دیکھاہے ۱؎ الحکم ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ تا ۹