حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 88 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 88

صلی اﷲ علیہ وسلم کی ضرورت دوسری تمام کتابوں اور نبیوں کے مقابلہ میں بدیہی ثبوت ہے۔عیسائیوں نے حضرت مسیحؑ کی شان میں غلو اس قدر کیا کہ ( باوجودیکہ وہ اپنی عاجزی اور بے کسی کا ہمیشہ اعتراف کرتے رہے اور کبھی خدائی کا دعوٰی نہ کیا،ان کو خدا بنا دیا۔لیکن اگر ان سے پوچھا جاوے کہ اس خدا نے دنیا میں آ کر کیا کِیا؟ تو میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ کوئی قابلِ اطمینان جواب اس قوم کے پاس نہیں ہے یہ ہم مانتے ہیں کہ جب مسیحؑآئے اُس وقت یہودیوں کی ایمانی اور اخلاقی ہالت بہت گری ہوئی تھی۔لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اخلاق اور عادات اور ایمان میں کیا تبدیلی کی؟جب کہ وہ اپنے حواریوں کا بھی کامل طور پر تزکیہ نہ کر سکے۔تو اَوروں کو تو کیا فیض پہنچتا؟ یہی موجودہ انجیل جو اس قوم کے ہاتھ میں ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے۔کہ چند لالچی اور صعیف الایمان آدمیوں کے سوا وہ کوئی جماعت جو اپنے تزکیہ نفس میں نمونہ ٹھہر سکے۔دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکے!جو ہمیشہ اپنے مُرشد و امام کے ساتھ بے وفائی کرتے رہے!حتٰی کہ بعض ان میں سے اس کی جان کے دشمن ثابت ہوئے۔مگر رسول اﷲ علیہ وسلم کی نسبت قرآن شریف نے دعوٰی کیا ہے وَ یُزکِّیْھِمْاور اس دعوٰی کا ثبوت بھی دیا۔جب کہ ان میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی۔وہ قوم کہ جو بُت پرستی میں غرق تھی۔لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُکہنے والی ہی ثابتنہیں ہوئی بلکہ توحید کو جوش اور صدق سے انہوں نے قبول کیا کہ تلواروں کے سایہ میں بھی اس اقرار کو نہیں چھوڑا۔ملک و مال۔احباب رشتہ داروں کو چھوڑنا منظور کیا۔مگر اس چھوڑی ہوئی بُت پرستی کو پھر منظور نہ کیا۔اپنے سیّد و مولیٰ رسولؐ کے ساتو وہ وفاداری اور ثباتِ قدم دکھایا جس کی نظیردنیا کی کوئی قوم پیش نہیں کر سکتی۔یہاں تک کہ غیر قوموں کو بھی اس کا اعتراف کرنا پڑا۔یہ واقعات ہیں جن کو ( کوئی) جھٹلا نہیں سکتا۔اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ مَیں ان پر کوئی لمبی بحث کروں۔میرا مطلب اور مدعا صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ دوسرا کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ ان کا تزکیہ کیا کہ ان کی کا تزکیہ کیا کہ ان کی حالت یہاں تک پہنچی کہ (بنی اسرائیل:۱۱۰) وہ روتے ہوئے ٹھوڑی کے بل گر پڑتے ہیں اور ان کو فروتنی میں ترقی ملی ہے اور( الفرقان:۶۵) اپنے خدا کے سامنے راتیں سجدہ اور قیام میں کاٹ دیتے ہیں(السجّدۃ:۱۷) راتوں کو اپنی خواب گاہوں اور بستروں سے اُٹھ اُٹھ کر خوف اور امید سے اپنے ربّ پکارتے ہیں۔پھر یہاں تک اُن کا تزکیہ کیا کہ آخر(المائدۃ:۱۲۰) کی