حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 87
اخلاقِ فاضہ اور کیا بلحاظ عبادات اور کیا بلحاظ عبادات اور معاملات ہر طرح ایک خطرناک تاریکی میں مبتلا تھی اور دنیا کی یہ حالت بالطبع جاہتی تھی کہ ع مَردے ازبروں آید و کارے بکند چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایک رسول کو عربوں میں مبعوث کیا جیسا کہ فرمایا: ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ الآیہ یہ رسولؐ صرف عربوں ہی کے لئے نہ تھا باوصفیکہ عربوں میں مبعوث ہوا۔بلکہ اس کی دعوتِ عام اور کل دنیا کے لئے جیسا کہ اس نے کل دنیا کو مخاطب کر کے سنایا (الاعراف: ۱۵۹) اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔اور پھر ایک اور مقام پر ا ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الانبیاء:۱۰۸) یعنی ہم نے تم کو تمام عالموں پر رحمت کے لئے بھیجا ہے۔اسی لئے وہ شہر جہاں سرورِ عالم فخر بنی آدم صلی اﷲعلیہ وسلم نے ظہور پایا۔امّ القرٰی ٹھہرا۔اور وہ کتابِ مبین جس کی شان ہے لَا رَیْبَ فِیْہِ۔وہ ام الکتاب کہلائی۔اور وہ لسان جس میں امّ الکتٰب اتری۔امّ الالسنہ ٹھہری۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا۔جو آدم زاد پر ہوا۔اور بالخصوص عربوں پر! اس رسول نے آ کر کیا: ۔ ۔پہلا کام یہ کیا کہ ان پر خدا کی آیات پڑھ دی۔۔پھر نرِے پڑھ دینے سے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے دوسرا کام یہ کیاان کو پاک صاف کیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کس قدر عظیم شان اور بلند مرتبہ ہے۔دوسرے کسی نبی کی بابت یہ نہیں کہا کہ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتی قوّتِ قدسی اور قوّتِ تاثیر کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپؐ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آ کر اُس کی کایا پلٹ دی۔ان کے اخلاق ، عادات اور ایمان میں ایسی تبدیلی کی جو دنیا کے کسی مصلح اور ریفارمر کی قوم میں نظر نہیں آتی۔جو شخص اس ایک ہی امر پر غور کرے گا۔تو اُسے بغیر کسی چُون و چرا کے ماننا پڑے گا۔کہ ہمارے سیّد و مولٰی صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی قوّتِ قُدسی اور تاثیر قوی اور افاضۂ برکات میں سے سب نبیوں سے بڑھ کر اور افضل ہیں اور یہی ایک بات ہے جو قرآن شریف اور آنحضرت