حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 84 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 84

اُس کی صفات و حمد میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو نقصان کا موجب ہو۔بلکہ وہ صفاتِ کاملہ سے موصوف اور ہر نقص اور بدی سے منزّہ اَلْقُدُّوْسُ ہے۔قرآن شریف پر تدبّر نہ کرنے کی وجہ سے کہو۔یا اسماء الہٰی کی فلاسفی نہ سمجھنے کی وجہ سے۔غرض یہ ایک غلطی پیدا ہو گئی ہے کہ بعض وقت اﷲ تعالیٰ کے کسی فعل یا صفت کے ایسے معنے کر لئے جاتے ہیں۔جو اُس کی دوسری صفات کے خلاف ہوتے ہیں۔اس کے لئے مَیں تمہیں ایک گُر بتاتا ہوں۔کہ قرآن شریف کے معنے کرنے میں ہمیشہ اس امر کا لحاظ رکھو۔کہ کبھی کوئی معنے ایسے نہ کئے جاویں جو صفاتِ الہٰی کے خلاف ہوں۔اسماء الہٰی کو مدّنظر رکھو۔اور ایسے معنے کرو اور دیکھو کہ قدّوسیّت کوبٹّہ تو نہیں لگتا۔لُغت میں ایک لفظ کے بہت سے معنے ہو سکتے ہیں اور ایک ناپاک دل انسان کلامِ الہٰی کے گندے معنے بھی تجویز کر سکتا ہے اور کتابِ الہٰی پر اعتراص کر بیٹھتا ہے۔مگر تم ہمیشہ یہ لحاظ رکھو کہ جو معنے کرو۔اس میں دیکھ لو کہ خدا کی صفتِ قدوسیّت کے خلاف تو نہیں ہے؟ اﷲ تعالیٰ کے سارے کلام حق و حکمت کے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔جس سے اس کی اور اس کے رسول اور عامۃ المومنین کی عزّت و بڑائی کا اظہار ہوتا ہے۔(المنٰفقون:۹) مومنوں کو معزّز کرتا ہے اور پھر ان سے بڑھ کر اپنے رسولوں کو عزّت دیتا ہے۔اور سچّی محبت اور بڑائی حقیقی اﷲ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے۔غرض ہر قول و فعل میں مومن کو لازم ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی عزّت کا خیال کرے کیونکہ وہ اَلْعَزِیْز ہے۔ظالم طبع انسان کی عادت ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک فعل سرّد ہوتا ہے تو وہ اس میں اپنی طرف سے نکتہ چینی کرنے لگتا ہے۔آمد کی بعثت پر کہنے والے اپنی کمیٔ علم اور ناواقفی کی وجہ سے (البقرہ:۳۱) پکار اُٹھے۔مگر چونکہ یہ گروہ صاف طِینت تھا۔آخر اُس نے( البقرہ:۳۳) کہہ کر اﷲ تعالیٰ کے اس فعل خلافتِ آدم کو حکمت سے بھرا ہوا تسلیم کر لیا۔مگر وہ لوگ جو خدا سے دور ہوتے ہیں۔وہ عجائباتِ قدرت سے ناآشنا محض اور اسمائِ الہٰی کے علم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔وہ اپنے خیال اور تجویز کے موافق کچھ چاہتے ہیں۔جو نہیں ہوتا۔جیسا ہمارے سردار سرورب عالم فخرِ بنی آدم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت پر کہہ اُٹھے۔(الزخرف:۳۲) یہ لوگ اﷲ تعالیٰ کو اَلْحَکِیْمُ نہیں مانتے۔ورنہ وہ اس قسم کے اعتراض نہ کرتے۔اور یقین کر لیتے کہ ( الانعام:۱۲۵) اسی طرح شیعہ نے خلافتِ خلفاء پر بعینہٖ وہی اعتراضات کئے جو کفّار نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت پر کئے۔