حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 85
حکیم کے معنی ہی ہیں اپنے محل پر ہر ایک چیز کو رکھنے والا۔اور مضبوط و محکم رکھنے والا۔پھر اگر الحکیم صفت پر ایمان ہو تو بعثتِ کاتم الانبیاء صلی اﷲعلیہ وسلم کا انکار کر کے کیوں اپنے ایمان کو ضائع کرتے۔غرض اﷲ تعالیٰ یہاں بتاتا ہے۔کہ اس کے قول و فعل میں سراسر حکمت ہوتی ہے اس لئے اس کے انکار سے بچنے کے لئے یہی اصول ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو الحکیم مانو۔پس جو کچھ زمین و آسمان میں ہے۔وہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔اس اﷲکی جو ہے۔زمین و آسمان کے تمام ذرّات اﷲ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی ان صفات پر گواہ ہیں پس زمینی علوم یا آسمانی علوم جس قدر ترقی کریں گے۔خدا تعالیٰ کی ہستی اور ان صفات کی زیادہ وضاحت زیادہ صراحت ہو گی۔مَیں اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ مَیں ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرتا کہ علوم کی ترقی اور سائنس کی ترقی قرآن شریف یا اسلام کے مخالف ہے۔سچّے علوم ہوں وہ جس قدر ترقی کریں گے۔قرآن شریف کی حمد اور تعریف اُسی قدر زیادہ ہو گی۔اس سورۃ شریف کو ان پاک الفاظ سے شروع کرنے کے بعد اﷲ تعالیٰ اپنا ایک انعام پیش کرتا ہے۔۔اُس اﷲ نے ( جس کی تسبیح زمین و آسمان کے زرّات اور اجرام کرتے ہیں۔اور ہر شئے جو اُن میں ہے۔وہ اﷲجو ہے اُمِّیُوْں … میں ( عربوں میں) ان میں ہی کا ایک رسول اُن میں بھیجا جو ان پر اﷲ کی آیتیں تلاوت کرتا ہے۔اور ان کو پاک صاف کرتا ہے۔اور ان کو الکتاب اور الحکمۃسکھاتا ہے۔اور اگرچہ وہ اس رسول کی بعثت سے پہلے کُھلی کُھلی اور خدا سے قطع تعلق کر دینے والی گمراہی میں تھے ۱؎۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت مکّہ والوں میں اﷲ تعالیٰ کی عزّت اور حمد کا ایک بیّن ثبوت ہے کیونکہ جس وقت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مبعوث ہوئے……اہل دنیا اس رشتہ سے جو انسان کو اپنے خالق کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔بالکل بے خبر اور ناآشنا تھے۔ہزاروں ہزار مشکلات اس رشتہ کے سمجھنے ہی میں پیدا ہو گئی تھیں۔اُس کا قائم کرنا اور قائم رکھنا تو اور بھی مشکل تَر ہو گیا تھا۔کتبِ الہٰیہاور صُحُفِ انبیاء علیجم السلام میں تاویلاتِ باطلہ نے اصل عقائد کی جگہ لے لی تھی۔اور پھر ان کی خلاف ورزی مقدرت سے ۱؎ الحکم ۳۱؍اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰،۱۱،۱۲