حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 83 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 83

انعامات پر غور کرنے کے بعد بے اختیار ہو کر انسان حمدِ الہٰی کرنے کے لئے اپنے دل میں ایک جوش پاتا ہے ہمارے پاک سیّد و مولیٰ رسول اﷲ علیہ وسلم کے لئے فرمایا ہے۔ (بنی اسرائیل:۲) اور پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ارشاد ہوتا ہے۔(الاعلیٰ:۲) غرض جہاں جہاں ذکر آیا ہے خدا تعالیٰ کے محامد۔بزرگیاں اور عجیب شان کا تذکرہ ہوتا ہے تو اس سورۃ کو جو سے شروع فرمایا گیا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ محامد اور انعامات اور احسانات اور فصلِ عظیم کا تذکرہ یہاں بھی موجود ہے۔ہر چیز جو زمین و آسمان میں ہے وہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔یہ ایک بدیہی اور صاف مسئلہ ہے۔نادان دہریہ یا حقائق الاشیاء سے ناواقف سوفسطائی اس راز کو نہ سمجھ سکے تو یہ امر دیگر ہے مگر مشاہدہ بتا رہا ہے کہ کس طرح پر ذرّہ ذرّہ خدا تعالیٰ کی تقدیس اور تسبیہ بیان کر رہا ہے۔دیکھو ایک لَوْ جو زمین سے نکلتی ہے۔بلکہ مَیں اس کو وسیع کر کے یوں کہہ سکتا ہوں کہ وہ پتّہ جو بول و براز میں نکلتا ہے۔کیسا صاف شفاف ہوتا ہے۔کیا کوئی وہم و گمان کر سکتا تھا۔کہ اس گندگی میں سے اس قسم کا لہلہاتا ہوا سبزہ جو آنکھوں کو طراوت دیتا ہے۔نکل سکتا ہے۔اس پتّہ کی صفائی نزاکت اور لطافت خود اس امر کی زبردست دلیل اور شہادت ہے کہ وہ اپنے خالق کی تسبیح کرتا ہے۔اس طرح پر ذرا اور بلند نآظری سے کام لو اور دیکھو کہ انسان کے جس قدر عمدہ کام ہیں وہ روشنی میں کرتا ہے۔مگر اﷲتعالیٰ کی تسبیح کرنے والے ہوتے ہیں۔ایک انار کے دانہ کو دیکھو۔کیسے انتظام اور خوبی کے ساتھ بنایا گیا ہے۔کیا وہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح نہیں کرتا؟ اسی طرح آسمان اور آسمان کے عجائبات اور اجرام کو دیکھو۔نیچر کے عجائبات سے ناواقف تو عجائبات نیچر کی ناواقفیت کی وجہ سے یہ کہہ دیتا ہے کہ فلاں امر خلافِ نیچر ہے۔مگر میرا یقین یہ ہے۔کہ جس جس قدر سائنس اور دوسرے علوم ترقی کرتے جائیں گے۔اسی قدر اسلام کے عجائبات اور قرآن شریف کے حقائق اور معارف زیادہ روشن اور درخشاں ہوں گے اور خدا کی تسبیح ہو گی۔غرص یہ سچی بات ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے۔ہر ایک ذرّہ گواہی دیتا ہے کہ وہ خالق ہے اور اسی کی ربوبیت اور حیات اور قیومّیت کے باعث ہر چیز کی حیات اور قائمی ہے۔اسی کی حفاظت سے محفوظ ہے۔پھر یہ بھی کہ وہ اﷲُ الْمَلِکہے۔وہ مالک ہے۔اگر سزا دیتا ہے تو مالکانہ رنگ میں۔اگر پکڑتا ہے تو جابرانہ نہیں بلکہ مالکانہ رنگ میں تاکہ ماخوذ شخص کی اصلاح ہو۔پھر وہ کیسا ہے!اَلْقُدُّوْس ہے