حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 82

التحیّۃ والتسلیم جمعرات کو بھی عٍآء کی پہلی رکعت میں اس کو پڑھا کرتے تھے۔پس ہر ہفتہ میں دو بار جہری قرأت کے ساتھ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو پہنچایا ہے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ ہمارے سیّد و مولیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کو کس قدر اہتمام اس سورۃ کی تبلیغ میں تھا۔پس مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ اس سورۃ شریف پر بہت غور فکر کریں اور میں تمہیں پکار کر کہتا ہوں کہ اَفَلاَیَتَدَبَّرُوْنَ ؟ مَیں نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس التزام اور اہتمام پر نظر کر کے اس سورہ شریف پر خاص غور کی ہے۔یُوں تو قرآن شریف میری غذا اور میری تسلّی اور اطمینان کا سچّا ذریعہ ہے اور میں جب تک ہر روز اس کو کئی مختلف رنگ میں پڑھ نہیں لیتا۔مجھے آرام اور جین نہیں آتا۔بچپن ہی سے میری طبعیت خدا نے قرآن شریف پر تدبّر کرنے والی رکھی ہے۔اور میں ہمیشہ دیر دیر تک قرآن شریف کے عجائبات اور بلند پروازیوں پر غور کیا کرتا ہوں۔مگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو اس قدر اہتمام اس کی تبلیغ میں کیا ہے۔اس نے مجھے اس سورۂ شریف میں بہت ہی زیادہ غور اور فکر کرنے کی طرف متوجہ کیا اور میں نے دیکھا ہے کہ اس سورۂ شریف میں قیامت تک عجائبات سے آگاہ کیا گیا ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان مقاصد جو جمعہ میں رکھے گئے ہیں اُن سے آگاہ کیا ہے۔میرا اپنا خیال نہیں …نہیں ایمان بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مَیں کہتا ہوں۔میرا یقین ہے اور مَیں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ وہ ٹھوکریں جو اس عظیم الشان جمعہ ( منجملہ ان کے مسیح موعود کے نزول کا مسئلہ بھی ہے) میں لوگوں کو لگی ہیں۔اسی عدم تدبّر کی وجہ سے لگی ہیں۔اگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس التزام پر عمیق نگاہ کی جاتی۔اور اس سورۃ پر تدبّر ہوتا تو میں کہہ سکتا ہوں کہ بہت کم مشکلات ان لوگوں کو پیش آتیں۔غرض یہ سورۃ اپنے اندر لا انتہاء حقائق اور عجائبات رکھتی ہے اور قیامت تک کے واقعات کو بیان کرتی ہے۔جن پاک الفاظ سے اس کو شروع کیا گیا ہے۔اگر کم از کم اُن الفاظ پر ہی غور فکر کی جاتی تو مجھے امید ہوتی ہے کہ اسماء الہٰی میں تو کم از کم ٹھوکر نہ لگتی۔وہ پاک الفاظ جن سے اس سورۃ کا شروع ہوتا ہے۔یہ ہیں  ۔جو کچھ زمین و آسمان میں ہے۔وہ سب اﷲ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔اس اﷲ کی جو ہےہے اورہے اور ہے۔تسبیح کیا ہوتی ہے؟سورۃ بقرۃ کے ابتداء میں اﷲ تعالیٰ نے ملائکہ کی زبان سے بتایاہے۔(بقرہ:۳۱) قران شریف میں جہاں تسبیح کا لفظ آیا ہے۔وہاں کچھ ایسے احسان اور انعام مخلوق پر طاہر کئے ہیں۔جن سے حمدا لہٰی ظاہر ہوتی ہے۔اور اُن احسانات اور