حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 67
’’ کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرے گا آج کا دُکھ آج کے لئے کافی ہے‘‘۔اگر ان دونوں تعلیموں پر غور کریں تو صرف اسی ایک مسئلہ سے اسلام و عیسائیت کی صداقت کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ایک نیک دل پارسا طالبِ نجات، طالبِ حق خوب سمجھ لیتا ہے۔کہ عملی زندگی کے اعتبار سے کون سا مذہب احق بالقبول ہے۔اگر انجیل کی اس آیت پر ہم کیا، خود انجیل کے ماننے والے عیسائی بھی عمل کریں تو دنیا کی تمام ترقیاں رُک جائیں اور تمام کاروبار بند ہو جائیں۔نہ تو بجٹ بنیں۔نہ ان کے مطابق عمل درامد ہو۔نہ ریل گاڑیوں اور جہازوں کے پروگرام پہلے شائع ہوں۔نہ کسی تجارتی کارخانے کو اشتہار دینے کا موقعہ ملے۔نہ کسی گھر میں کھانے کی کوئی چیز پائی جائے۔اور نہ غالباً بازاروں سے مل سکے۔کیونکہ کل کی تو فکر ہی نہیں۔بلکہ فکر کرنا گناہ ہے۔برخلاف اس کے قرآن مجید کی تعلیم کیا پاک اورعملی زندگی میںکام آنیوالی ہے۔اور لطف یہ ہے کہ عیسائیوں کا اپنا عمل در آمد بھی اسی آیت پر ہے۔ورنہ آج ہی سے سب کاروبار بند ہو اجائیں۔اور کوئی نظامِ سلطنت قائم نہ رہے۔قرآن پاک کی تعلیم وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍپر عمل کرنے سے انسان نہ صرف دُنیا میں کامران ہوتا ہے بلکہ عقبیٰ میں بھی خدا کے فضل سے سرخرو ہو گا۔ہم کبھی آخرت کے لئے سرمایۂ نجات جمع نہیں کر سکتے جب تک آج ہی سے اس دارالقرار کے لئے تیاری نہ شروع کر دیں۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۵ صفحہ ۲۲۷،۲۲۸) چاہیئے کہ ہر ایک نفس دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا تیاری کی ہے۔انسان کے ساتھ ایک نفس لگا ہوا ہے۔جو ہر وقت مبدّل ہے۔کیونکہ جسم انسانی ہر وقت تحلیل ہو رہا ہے۔جب اس نفس کے واسطے جو ہر وقت تحلیل ہو رہا ہے۔اور اس کے ذرّات جُدا ہوتے جاتے ہیں۔اس قدر تیاریاں کی جاتی ہیں۔اور اس حفاظت کے واسطے سامان مہیّا کئے جاتے ہیں۔تو پھر کس قدر تیاری اس نفس کے واسطے ہونی چاہیئے جس کے ذمّہ موت کے بعد کی جواب دہی لازم ہے۔اس آنی فنا والے جسم کے واسطے جتنا فکر کیا جاتا ہے۔کاش کہ اتنا فکر اس کے نفس کے واسطے کیا جاوے جو کہ جواب دہی کرنے والا ہے۔: اﷲ تعالیٰ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔اس آگاہی کا لحاظ کرنے سے آخر کسی نہ کسی وقت فطرتِ انسانی جاگ کر اسے ملامت کرتی ہے۔اور گناہوں میں گرنے سے بچاتی ہے۔(بدر ۱۳؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ۹) مومن کو چاہیئے کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔انسان غضب کے وقت قتل کر دینا چاہتا ہے۔گالی نکالتا ہے۔مگر سوچے کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔اس اصل کو مدّنظر رکھے تو تقوٰی کے طریق پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی۔نتائج کا خیال کیونکر پیدا ہو۔اس لئے اس بات پر ایمان رکھے