حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 66
خیلِ پاک کے حق میں دعائیں کرنے کا حکم قرآنِ شریف سے ثابت ہے۔چنانچہ آیتِ ذیل میں اس مضمون کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ ۔غرض اپنے پہلے بزرگوں اور کادمانِ اسلام و شریعتِ محمدیہؐ کے واسطے دعائیں کرنا اور ان کی طرف سے کوئی بُغض و کینہ۔غِلّ و غشِ دل میں نہ رکھنا۔یہ بھی ایمان اور ایمان کی سلامتی کا ایک نشان ہے۔پس انسان کو مرنج و مرنجان ہونا چاہیئے۔اور خدا کی باریک درباریک حکمتوں اور قدرتوں پر ایمان لانا چاہیئے۔اور کسی سے بغض و کینہ دل میں نہ رکھنا چاہیئے۔خدا کی شانِ ستّاری سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہنا چاہیئے۔(الحکم ۶؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴) ۱۹۔ ۔تقوٰی اﷲ اختیار کرو۔اور ہر ایک جی کو جاہیئے کہ بڑی توجہ سے دیکھ لے کہ کل کیلئے کیا کیا۔جو کام ہم کرتے ہیں۔ان کے نتائج ہماری مقدرت سے باہر چلے جاتے ہیں۔اس لئے جو کام اﷲ کے لئے نہ ہو گا۔تو وہ سخت نقصان کا باعث ہو گا۔کیکن جو اﷲ کے لئے ہے۔تو وہ ہمہ قدرت اور غیب دان خدا جو ہر قسم کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے اس کو مفید اور مثمز ثمراتِ حسنہ بنا دیتا ہے۔(الحکم ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۳) اے ایمان والو! اﷲ کا تقوٰی اکتیار کرو اور ہر نفس کو چاہیئے کو دیکھتا رہے کہ کل کے لئے اس نے کیا کیا اور تقوٰی اپنا شعار بنائے۔اور اﷲ جو کچھ تم کرتے ہو۔اس سے خوب آگاہ ہے۔غرض دنیا و عقبٰی میں جس کامیابی کا ایک گُر بتایا کہ انسان کل کی فکر آج کرے۔اور اپنے ہر قول و فعل میں یہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ میرے کاموں سے خبردار ہے۔یہی تقوٰی کی جڑھ ہے۔اور یہی ہر کامیابی کی رُوحِ رواں ہے۔برخلاف اس کے انجیل کی یہ تعلیم ہے جو ( متی) باب ۶ آیت ۳۳ میں مذکور ہے بایں الفاظ کہ