حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 68 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 68

کہ جو کام تم کرتے ہو۔اﷲ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔انسان اگر یہ یقین کرے کہ کوئی خبیر و علیم بادشاہ ہے۔جو ہر قسم کی بدکاری،دغا، فریب، سُستی اور کاہلی کو دیکھتا ہے۔ار اس کا بدلہ دے گا۔تو وہ بچ سکتا ہے۔ایسا ایمان پیدا کرو۔بہت سے لوگ ہیں جو اپنے فرائض نوکری۔ہرقہ۔مزدوری وغیرہ میں سُستی کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے رزقِ حلال نہیں رہتا۔اﷲ تعالیٰ سب کو تقوٰی کی توفیق دے۔(الحکم ۲۱،۲۸؍مئی ۱۹۱۱ء صفحہ۲۶) ۲۰۔۔ایسے لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جن کی نسبت فرمایا۔۔یعنی جنہوں نے اس رحمت اور پاکی کے سرچشمہ قدّوس خا کو چھوڑ دیا اور اپنی شرارتوں۔چالاکیوں۔ناعاقبت اندیشیوں غرض قسم قسم کی حیلہ سازیوں اور رُوْباہ بازیوں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔مشکلات انسان پر آتی ہیں۔بہت سی ضرورتیں انسان کو لاحق ہیں۔کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔دوست بھی ہوتے ہیں۔دشمن بھی ہوتے ہیں۔مگر ان تمام حالتوں میں متقی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ خیال اور لحاظ رکھتا ہے۔کہ خدا سے بگاڑ نہ ہو۔دوست پر بھروسہ ہو۔ممکن ہے وہ درست مصیبت سے پیشتر دنیا سے اُٹھ جاوے یا اور مشکلات میں پھنس کر اس قابل نہ رہے۔حاکم پر بھروسہ ہو تو ممکن ہے کہ حاکم کی تبدیلی ہو جاوے اور فائدہ اس سے نہ پہنچ سکے اور اُن احباب اور رشتہ داروں کو جن سے امید اور کامل بھروسہ ہو کر وہ رنج اور تکلیف میں امداد دیں گے۔اﷲ تعالیٰ اس ضرورت کے وقت ان کو اس قدر دُور ڈال دے کہ وہ کام نہ آ سکیں۔پس ہرآن خدا سے تعلق نہ چھوڑنا چاہیئے۔جو زندگی۔موت۔کسی حالت میں ہم سے جدا نہیں ہو سکتا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے خدا سے قطع تعلق کر لیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم دُکھوں سے محفوظ نہ رہ سکو گے۔اور سکھ نہ پاؤ گے۔بلکہ ہر طرف سے ذلّت کی مار ہو گی۔اور ممکن ہے کہ وہ ذلّت تم کو دوستوں ہی کی طرف سے آ جاوے۔ایسے لوگ جو خدا سے قطع تعلق کرتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں؟ وہ فاسق۔فاجر ہوتے ہیں!۔اُن میں سچّا اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا! یہی نہیں کہ وہ ایمان کے کچّے ہیں۔نہیں ان میں شفقت علیٰ خلق اﷲ بھی نہیں ہوتی! (الحکم ۱۰؍فروری ۱۸۹۹ء صفحہ۸۔۹)