حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 51
۔وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جو زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ہر گھڑی میں پیدا بھی ہو رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔کوئی ایسا نہ پیدا ہوا۔جو موت کی دوا کرے۔یا کسی انسان کو پیدا ہی کر سکے۔موت سے بچنے کے لئے بادشاہوں نے فوجیں رکھیں۔ہتھیار اور قلعے بانئے۔دوائیں اور منتر اور ختم اور انتظام بنائے یہ سب کچھ ہوا۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ کوئی اس سے بچا ہو۔(بدر ۱۵؍مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۷) ۴۔۔: کے معنے یہ ہیں کہ جیسا کہ ایک مخلوق اپنی ابتداء میں اُس کا محتاج ہے ویسا ہی بقاء و انتہاع میں بھی اس کا محتاج ہے۔یہ معنے غلط ہیں کہ وہ مخلوق کے پہلے تھا اور جب کل مخلوق فنا ہو جائے گی۔تب وہی ہو گا اس سے تو جنّت کی حقیقت فانی ہی رہ جاتی ہے۔(بدر ۲؍ نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) اﷲ تعالیٰ کی چار صفتیں ہر وقت رہتی ہیں۔اﷲ اوّل ہے اور جس وقت وہ اوّل ہے اسی وقت آخر بھی ہے اور ظاہر بھی اور باطن بھی۔ کے یہ معنی غلط کئے گئے ہیں کہ ایک وقت میں خدا اکیلا تھا۔پھر جہان بنایا۔دیانندیوں نے بھی غلطی کی ہے کہ کہا کہ چار ارب سال ہو گیا۔حالانکہ اگر مہاں سنکھ کو مہاں سنکھ میں مہاں سنکھ دفعہ بھی ضرب دیں۔تب بھی خدا کی ہستی کا پتہ نہیں لگ سکتا۔مگر قربان جایئے الحمد شریف کے جس نے ربّ العٰلمین فرما کر فیصلہ کر دیا۔سب لوگوں نے جہان کی تاریخیں لکھیں۔مگر قرآن نے ان کو چھوڑ دیا۔عیسائی بڑے بے ہنگم مؤرخ ہیں۔سات آٹھ ہزار سے نیچے ہی رہتے ہیں۔پانڈوؤں کی لڑائی مسیحؑ سے چار ہزار برس پہلے ہوئی۔قرآن کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ اﷲّ شانہٗ کے بنانے کی کوئی تاریخ نہیں بتائی۔در اصل کوئی ہے ہی نہیں۔آج بھی اﷲ اوّل ہے اور آج ہی آخر بھی ہے جس وقت وہ مجھ بنا رہا تھا۔نطفہ سے بھی پہلے بقول ؎ ہم چو سبزہ بارہا روئیدہ ام کے جب کہ اناج تھا۔پھر روٹی بنی۔خؤن بنا۔نطفہ بنا۔غرض کہ جس وقت وہ بنا رہا تھا۔جتنا حصّہ