حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 50 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 50

سُوْرَۃُ الْحَدِیْدِ مَدَنِیَّۃٌ  ۲۔۔: عرب ستاروں کی پرستش ہوتی تھی۔مٹادی۔خانہ کعبہ میں بُت تھے۔توڑ ڈالے گئے یہ سب تسبیح میں داخل ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۳) جوچیز نئی دنیا میں آتی ہے۔کیسی پاکیزگی اپنے ساتھ لاتی ہے۔جب یہ پتّے گرے تھے کیسی خراب شکل تھی ( جس درخت کے نیچے کھڑے ہو کر درس دے رہے تھے۔اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا) جب نئے پتّے نکلتے ہیں۔کیسے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔اروڑیوں پر کیسا گند ہوتا ہے مگر وہاں بھی جو پتّہ نکلتا ہے۔کیسا صاف ہوتا ہے۔بارش کا پانی برستا ہے کیسا صاف ہوتا ہے۔ماں کے پیٹ سے جو بچّہ پیدا ہوتا ہے۔کیسا مصفی اور بے عیب ہوتا ہے۔نہ مشرک ہوتا ہے۔نہ بے ایمان ہوتا ہے۔بھینسوں اور کتیوں کے چھوٹے بچوں میں جو خوبصورتی پائی جاتی ہے وہ بڑوں میں نہیں پائی جاتی۔اگر یہ آنکھیں نہ ہوں۔کیسی دقّت ہو۔کان سے کیسی باتیں سُنتے ہیں۔زبان سے کیسی پاک باتیں نکلتی ہیں۔خدا کے یہاں سے سب چیزیں پاک آتی ہیں۔ ہر چیز اﷲ کی پاکیزگی بیان کر رہی ہے۔میرے پاس کوئی ایسا چاقو نہیں جس سے میں اپنا دل چِیر کر تمہیں دکھلا سکوں۔کہ مجھے قرآن سے کس قدر محبت اور پیار ہے۔قرآن کا ایک ایک حرف کیسا عمدہ اور پیارا لگتا ہے۔مجھے قرآن کے ذریعہ سے بڑی بڑی فرحتوں کے مقام پر پہنچایا جاتا ہے۔دنیا میں جتنی حکمتیں بنی ہوئی ہیں۔سب اسی حکیم کی بنائی ہوئی ہیں۔(بدر ۱۵؍مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۷) ۳۔