حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 52
میرا بن چکا تھا۔ان سب وقتوں میں میری حفاظت فرماتا رہا۔وہ ہر چیز کے بنانے کے وقت اس کی ابتداء۔اوسط اور انتہاء میں موجود ہوتا ہے۔اوّل: لَیْسَ قَبْلَہٗ شَیْیئٌ (جس سے پہلے کوئی شَئے نہ تھی) آخر: لَیْسَ بَعْدَہٗ شَیْیئٌ (جس سے بعد کوئی شَئے نہ تھی) الظّاھر: لَیْسَ فَوْقَہٗ شَیْیئٌ (اس پر کسی وقت کوئی حکمران نہیں) الباطن: لَیْسَ دُوْنَہٗ شَیْیئٌ اﷲ کی ربوبیّت۔رحمانیّت اور رحیمیّت اور مالکیّت۔اس سے کوئی الگ چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ایسی کوئی چیز نہیں جس پر اﷲکی ان صفات کا تسلّط نہ ہو۔لوگوں نے اس بات پر ہنسی اڑائی ہے کہ تم ہمیشہ کا بہشت کس طرح لو گے جب کہ صرف خدا ہی پیچھے رہ جائے گا۔ربّ۔رحمن۔رحیم۔مالک۔یہ چاروں صنعتیں کبھی خالی نہیں رہتیں۔زمانہ ہر وقت فنا ہوتا رہتا ہے۔ماضی مر گیا۔مستقبل دنیا پر آیا نہیں حال کا کوئی زمانہ ہی نہیں۔یہ زمانہ ہر وقت فنا ہوتا رہتا ہے۔اس کے اوّل۔آخر خدا ہی ہے۔ہر آن میں خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ معنی سوائے قرآن کریم کے اور کسی کو نہیں آتے۔(بدر ۱۵؍ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۲۷) ایک عیسائی کے اعتراض ’’ قرآن نے خدا کا نام ظاہر یا تو صرف قافیہ بندی کے لئے لیا ہے یا ویدانتیوں کی مَتْ مخلوق کو خدا کہا ہے‘‘ کے جواب میں فرمایا : ’’ اس آیت میں پہلا نام الاوّل ہے اور دوسرا نام الٰاخر۔یہ دونوں نام یسعیاہ ۴۴ باب ۶ میںموجود ہے۔ربّ الافواج فرماتا ہے ’’ میں اوّل اور آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں‘‘ تیسرا نام اس آیت میں الظاہرؔ ہے اور چوتھا الباطن ہے۔ظاہرؔ کے معنی لغت عرب میں غالب اور بڑے زور والے کے ہیں۔اور ظاہرؔ اونچے کو بھی کہتے ہیں اور باطن مخفی کو۔اب دیکھو ٹھیک انہی الفاظ کے مراد معنی ایوب ۱۱ باب ۸۔وہ تو آسمان سا اُونچا ہے تو کیا کر سکتا ہے؟ اور پاتال سے نیچے ہے تو کیا جان سکتا ہے‘‘؟ اور حدیث صحیح میں اس آیت کی تفسیر خود افصح العرب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمائی ہے ۔لَیْسَ قَبْلَہٗٗ شَیْیئٌ یعنی جب مخلوق میں سے کسی موجود چیز کو دیکھو تو خدائے تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات اُس موجود مخلوق سے پہلے موجود ہے۔مخلوقات سے کوئی ایسی چیز نہیں جو خدا سے پہلے ہو۔ھُوَ