حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 526 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 526

نے روک رکھا اور یہ خبر مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمانؓ کو کفّار مکّہ نے قتل کر دیا۔اور ممکن ہے کہ ان کی نیت قتل کر دینے کی ہو۔کیونکہ اسی وقت اسی کفّار مسلمانوں پر آ کر سب خون کرنے لگے مگر گرفتار ہو گئے جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کو کفّار کی اس شرارت اور فساد کی خبر ملی تو آپؓ نے اپنے اصحابؓ کو جمع کیا اور ایک کیکر کے درخت کے نیچے اس سے بیعت لی۔سب نے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کے قربان کرنے کا صدق دل سے اقرار کیا۔اتنے میں حصرت عثمانؓ چند کفّار کے ساتھ جو صلح کی شرائط کا فیصلہ کرنے آئے تھے پہنچ گئے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے باوجود کفّار کی شرارتوں کے اور فساد کی نیتوں اور سخت شرائط پیش کرنے کے انہیں کی پیش کردہ سب باتیں مان کر صلح کر لی۔جو اسّی آدمی کفّار کے حملہ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔وہ بھی چھوڑ دئے۔اور ایسی شرطیں ان سے لیں جس سے کفّار کا بڑا غلبہ اور رعب بظاہر معلوم ہوتا تھا۔اور مسلمان بہت کمزور اور نیچے دکھائی دیتے تھے۔چنانچہ ایک شرط یہ تھی کہ اس سال بغیر زیارتِ کعبہ واپس چلے جائیں۔پھر یہ کہ دوسرے سال آویں۔دو تین دن سے زیادہ نہ ؟ٹھہریں۔اور مسلمانوں کے ہتھیار بند ہوں پھر ایک شرط یہ بھی تھی۔کہ اگر کوئی مسلمان مکّہ سے بھاگ کر مدینہ میں چلا آئے تو اہلِ مکّہ کو واپس کیا جائے۔لیکن اگر کوئی شخص مدینہ سے بھاگ کر مکّہ میں ا جاوے تو اہلِ مکّہ واپس نہ دیں گے۔ایک شرط یہ بھی تھی کہ اہلِ مکّہ میں سے جس قوم کی مرضی ہو۔اس وقت مسلمانوں کی طرف ہو جائے اور جس کی مرضی ہو اہلِ مکّہ کے ساتھ رہے اور آئندہ اس کے مطابق قوموں کی باہمی تقسیم رہے۔چنانچہ ایک قبیلہ جس کا نام وائل تھا۔قریش کے عقدہ عہد میں ہو ا۔اور خزاعۃ اسلامیوں کے طرفدار بن گے۔ان شرائط کے بعد پیغمبرِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم بُدوں ادائے رسم حج مدینہ کو واپس چلے آئے اور اسی مقام حدیبیہ پر قربانی ذبہ کر دی۔اس صلح کا نام صلح حدیبیہ ہوا۔حدیبیہ سے واپس ہوتے وقت سورۃ فتح نازل ہوئی۔جب حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے بعد واپس مدینہ کو تشریف فرما ہوئے تو کچھ عرصہ کے بعد کفّارِ مکّہ نے عہد و پیمان کو توڑ دیا۔مکّہ کے قبائل میں سے بنو بکر اس صلہ کے شرائط کے مطابق قریش کے عق و عہد میں ہوا تھا اور خزاعۃ اسلامیوں کے طرفدار بن گئے تھے۔بنو بکر اور خزاعۃ میں باہم مدت سے جنگ و جدال چلا آتا تھا۔اس وقت اسلام کے پھیلنے اور اسلامیوں کے مقابلہ کے نئے شغل نے ان دونوں قوموں کو باہمی جنگ کرنے سے روک رکھا ہی تھا۔اب جبکہ اہلِ مکّہ اور اہلِ اسلام کے درمیان صلہ ہو گئی۔تو اس جنگ جُو