حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 525
ایسے واقعات موجود ہیں۔یسوع بچّہ ہی تھا کہ اس کی جان بچانے کے واسطے اسے خفیہ طور پر ملک مصر میں لے گئے اور پھر عین نبوّت کے زمانہ میں جب دشمنوں سے خوف بڑھا تو اپنے شاگردوں کو حکم کیا کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں۔پھر بزعم متی کی توریت کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے واسطے کود گدھی کا بچہ منگوایا تاکہ اس پر سوار ہو۔غرض ایسے طریق پر اعتراض کرنا ایک جاہل متعصّب کا کام ہے۔خود دنیا کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ جب مثلاً ایک بادشاہ ایک محل تیار کرنے کے واسطے حکم کرتا ہے تو خدّام اور ملازمین اس حکم کی تعمیل میں دل و جان سے مصروف ہو جاتے ہیں۔اور وہ محل تیار ہو جاتا ہے۔گو ظاہری نظر سے دیکھنے والا نادان یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ محل فلاں معمار یا فلاں مزدور کا حکم ہے۔ورنہ کسی کی کیا طاقت تھی کہ کوئی ایسا محل تیار کر دیتا۔گو یہ مثال ادنیٰ درجہ کی ہے تاہم اس سے ایک فہیم سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح انجینئربادشاہ کا حکم پا کر یقین کر لیتا ہے کہ اب مجھے اس محل کے تیار کرنے کے لئے تمام سامان مہیا ہو جائیں گے۔اور کوئی روکاوٹ باقی نہ رہے گی اور مَیں کامیاب ہو جاؤں گا۔اور اس یقین کو ساتھ لے کر وہ کام شروع کر دیتا ہے۔اور اس کے واسطے تمام اسباب بامراد ہونے کے بنتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح ایک مامور من اﷲ خدا کے حکم پر پورا یقین اور ایمان رکھ کر اس کو پورا کرنے کے درپے ہو جاتا ہے۔اس کا خود پیشگوئی کے پورا کرنے میں مصروف ہو جانا اس کے اعلیٰ ایمان اور یقین اور صداقت کی ایک بیّن دلیل ہوتی ہے۔اگرتواسے اس الہام کی سچائی پر یقین نہ ہوتا اور اُس میں کچھ وہم اور وسوسہ ہوتا تو وہ ہرگز اُس کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔کسی کو اﷲ تعالیٰ فرما دے کہ تجھے بچہ دیویں گے اور تیری نسل سے یہ ہو گا تو وہ شکر نہ کرے۔الغرض آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم عازم بیت اﷲ شریف ہوئے لیکن جب آپ مقام حدیبیہ پر پہنچے جو مکّہ سے نوکوس کے فاصلہ پر ہے۔تو آپ کو معلوم ہوا کہ کفّار مکّہ جنگ کے لئے آمادہ ہیں اور آپ کو زیارتِ کعبہ سے روکتے ہیں۔آپ کی عادت تھی کہ باوجود مشرکین کی سختی کے ہمیشہ ان پر نرمی کرتے تھے۔اور کبھی کسی معاملہ میں جس میں کسی کو ضرر ہو پیش دستی نہ فرماتے تھے۔آپ نے حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کو بمعہ دو اور اصحاب کے اہلِ مکّہ کی طرف بھیجا۔کہ مَیں جنگ کے واسطے نہیں آیا۔صرف زیارتِ کعبہ کے لئے آیا ہوں اور بعد زیارتِ کعبہ واپس مدینہ منورّہ کو چلا جاؤں گا۔حضرت عثمان جب کفّار کے پاس پہنچے تو انہوں نے حضرت عثمانؓ کو کہا کہ تم کعبہ کا طواف کرنا چاہتے ہو تو کر لو اور واپس چلے جاو۔انہوں نے جواب دیا۔میں اکیلا طواف نہیں کروں گا۔حضرت رسول کریمؐ کریں گے تو میں بھی کروں گا۔اس قسم کی گفتگو میں قریش