حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 527
قوم کو نچلّا بیٹھنا محال ہو گیا۔لگے کوئی بہانہ لڑائی کا تلاش کرنے۔نوفل بن معاویہ بن نفاثہ الدیلی بنو بکر میں سے ایک نامور سپاہی تھے۔انہوں نے خزاعۃ قوم پرشبخون مارا۔خزاعۃ کے لوگ اس وقت بے خوف و خطر و تیرؔنام چشمہ پر غافل پڑے تھے۔نوفل کے حملہ سے وہ چونک اُٹھے اور لڑائی شروع ہو گئی۔وہاں کفّارِ مکّہ نے پہلے تو ان کی امداد ہتھیاروں سے کی اور جب اندھیرا ہو گیا تو بنو بکر کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب بنو بکر کو اہلِ مکّہ کی مدد ہو گی۔تو خزاعۃقوم کمزور ہو گئی اور وہ بدیل بن ورقہ کاخزاعی اور رافع کے گھر میں پناہ گزین ہوئے۔مگر خزاعہ بیچارے صبح تک بہت مارے گئے۔صبح کے ہوتے ہی اپنی تباہ حالت کو دیکھ کر وہ بھاگ گئے اور انہوں نے اپنے مامن کو پہنچ کر عمرو بن سالم خزاعی کو چالیس آدمی کے ساتھ مدینہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خدمت میں روانہ کیا۔عمرو بن سالم نے عرب کے طریق و رواج کے مطابق اشعار میں اپنا حال رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔خزاعہ صلح نامہ کے مطابق اسلامیوں کی طرفدار قوم تھی اور تمام کفارب مکہ کا ان کے برخلاف سازش کرنا اور ان کو اس طرح قتل کرنا دراصل اسی سبب سے تھا۔ان واقعات اور سچے اقوال کو سُن کر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔نُصِرْتَ یَا عَمْرَو بْنَ سَالَمِ۔ادھر کفّار ِ مکّہ کو اپنی کرتوت کا( جیسے ہر ایک گناہ کا نتیجہ افسوس ہوتا ہے) افسوس ہوا اور پشیمان ہوئے اور ابوسفیان اپنے رئیس کو اس بدافعالی کے ثمرات سے بچ رہنے کی تدابیر کے واسطے مدینہ روانہ کیا۔ابوسفیان کو یقین تھا کہ رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہماری اس عہد شکنی کی اب تک خبر نہیں۔اس خیال پر اس نے اپنے دل میں ایک چالاکی کی بات سوچی اور آنحضرتؐ سے کہا۔کہ صلہ حدیبیہ،کے وقت مَیں موجود نہ تھا۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ عہدِ سابق کی تجدید کریں۔اس عہد نامہ کی تاریخ آج سے شروع ہو اور صلہ کی مدّت بڑھا دی جاوے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم امن کی بد عہدیوں کو بار بار دیکھ چکے تھے اور خزاعہ کے مقابلہ میں بنوبکر کی امداد خلاف عہد حدیبیہ کی خبر عمرو بن سالم کے ذریعہ پہنج چکی تھی۔آپؐ نے ابوسفیان کو جواب دیا کہ کیا تم نے کوئی عہد شکنی کی ہے۔جو تم عہد کی تجدید چاہتے ہو؟ ابوسفیان نے کہا۔مَعناذَ اﷲِ ایسا نہ وہ۔کیا ہم ایسے ہیں کہ عہد توڑ ڈالیں گے؟ تب آپ آپؐ نے فرمایا اَلْحَال سابق عہد و پیمان کو رہنے دو۔آخر ابوسفیان واپس مکہ کو چلا گیا۔ابوسفیان کے جانے کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک سفیر مکّہ کو بھیجا اور حسبِ دستور ملک بلکہ حسب قانون اخلاق کہلا بھیجا کہ یا تو خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا دیدو۔یا بنو بکر کی حمایت اور جانبداری سے الگ ہو جاؤ یا حدیبیہ کی صلح کا عہد جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے۔اسے پھیر دو…اہلِ مکّہ