حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 506
مرزا صاحب نہیں بولتے اور سناتے۔کیونکہ تم دیکھتے ہو۔وہ خاص وقتوں میں باہر تشریف لاتے ہیں اور میں سارا دن باہر رہتا ہوں۔لیکن ہم پر تو بدظنی بھی ہو جاتی ہے۔لیکن اس کی باتوں پر کیسا عمل ہے۔بات یہی ہے کہ اﷲ کی دین الگ ہے! اور وہ موقوف ہے ایمان پر!! منصوبہ باز چالاکیوں سے کام لینے والے بامراد نہیں ہو سکتے۔وہ اپنی تدابیر اور مکائد پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یوں کر لیں گے۔مگر اﷲ تعالیٰ ان کو دکھاتا ہے کہ کوئی تدبیر کار گر نہیں ہو سکتی۔جب اس کا فضل ہوتا ہے تو اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔غرض یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی دین کے منتظر بنو۔اور یہ عطا منحصر ہی ایمان پر ہے۔اس لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو جو مصا۔وہ سب سے بڑھ کر مِلا۔شرط یہ ہے فَصَلِّ لِرَبِّکَ۔اﷲ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو۔نماز سنوار کر پڑھو۔نماز مومن کی الگ اور دنیادار کی الگ اور منافق کی الگ ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا پاک نام ابراہیمؑ بھی تھا۔جس کی تعریف اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ( النجم: ۳۸)اور وہی ابراہیمؑ جو جَآئَ رَبَّہٗ بِقنلْبٍ سَلِیْمٍ ( الصّٰفّٰت:۸۵) کاک مصداق تھا۔اس نے سچی تعظیم امر الہٰی کی کر کے دکھائی اس کا نتیجہ کیا دیکھا، دنیا کا امام ٹھہرا۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ تعظیم لامر اﷲ کے لئے تو فَصَلِّ لِرَبِّکَ کا حکم ہے مگر شفقت علیٰ خلق اﷲ اور تکمیل تعظیم امرِ الہٰی کے لئے وَانْحَرْ ( قربانی بھی کرو)۔قربانی کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔جب یہ شروع ہوئی۔اس وقت دیکھو۔کیسے مشکلات تھے اور اب بھی دیکھو۔ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔۹۹ برس کی عمر تھی۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولاد صالح عنایت کی۔اسمٰعیل جیسی اولاد عطا کی۔جب اسمٰعیل جوان ہوئے تو حکم ہوا۔کہ ان کو قربانی میں دیدو۔اب ابراہیم علیہ السلام کی قربانی دیکھو۔زمانہ اور عمر وہ کہ ۹۹ تک پہنچ گئی۔اس بڑھاپے میں آئندہ اولاد کے ہونے کی کیا توقع اور وہ طاقتیں کہاں؟ مگر اس حکم پر ابراہیمؑ نے اپنی ساری طاقتیں ساری امیدیں اور تمام ارادے قربانب کر دئے۔ایک طرف حکم ہوا اور معاً بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا پھر بیٹا بھی ایسا سعید بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔بیٹا اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اِنِّیْ اَذْبَحُکَ( الصّٰفّٰت: ۱۰۳) تو ہو بلا چون و جرا یونہیء بولا کہ اِفْعَلْ مَاتُؤْمَرُ سَتنجِدُنِیْ ابنْ شَآئن اﷲُمِنَ الصَّابِرِیْنَ ( الصّٰفّٰت:۱۰۴) ابا جلدی کرو۔ورنہ وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ خواب کی بات ہے۔اس کی تعبیر ہو سکتی ہے۔مگر نہیں۔کہا۔پھر کر ہی لیجئے۔غرض باپ بیٹے نے فرماں برداری دکھائی کہ کوئی عزّت، کوئی آرام ، کوئی دولت اور کوئی امید باقی