حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 505 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 505

اس ضروری کام کو تو چھوڑا۔پھر مصروفیت کس کام میں اختیار کی۔نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے میں۔چائے پی لی۔حقّہ بی لیا، پان کھا لیا۔غرض ہر پہلو اور ہر حالت سے دنیوی امور میں ہی مستغرق ہو گئے۔مگر پھر بھی ارام اور سُکھ نہیں ملتا۔ساری کوششیں اور ساری تگ و دَو دنیا کے لئے ہی ہوتی ہے۔اور اس میں بھی راحت نہیں۔لیکن جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں۔ان کو وہ دیتا ہے تو پھر کس قدر دیتا ہے۔اور ساری راحتوں کا مالک اور وارث بنا دیتا ہے۔مَیں نے پہلے بتا دیا ہے۔کہ جتنا چھوٹا ہوتا ہے۔اس کا اتنا ہی دنیا ہوتا ہے۔اور جس قدر بڑا اسی قدر اس کی خواہش ۱؎ الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ تا ۱۶ ہوتی ہے۔جس قدر کبریائی اﷲ تعالیٰ رکھتا ہے۔اسی کے موافق اس کی عطا ہے اور اس کی عطا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔مَیں نے ایک دنیاودار کو دیکھا ہے۔وہ میرا دوست بھی ہے۔میں کلکتہ میں اس کے مکان پَر تھا۔اُس نے مجھے دکھایا کہ وہ ایک ایک مکان میں چار چار پانچ پانچ سو روپیہ کیسے کما لیتا ہے۔مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا کہ مَیں نے اس کو ایک مرتبہ گجرات میں دیکھا۔بہت ہی بُری حالت میں مبتلا۔میں نے اس کو اور تو کچھ نہ کہا۔صرف یہ پوچھا کہ بتاؤ کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ یہ حالت ہو گئی ہے۔کہ رہنے کو جگہ نہیں، کھانے کو روٹی نہیں۔اس وقت یہاں آیا ہوں کہ فلاں شخص کو پندرہ ہزار روپیہ دیا تھا مگر اب وہ بھی جواب دیتا ہے۔مَیں نے اس کی اس حالت کو دیکھ کر یہ سبق حاصل کیا کہ چالاکی سے انسان کیا کما سکتا ہے؟ ادھر بالمقابل دیکھئے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے اتباع نے کیا کمایا۔میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وعظ کرتے ہیں، چالاکیاں کرتے ہیں لیکن ذرا پیٹ میں درد ہو تو بول اٹھتے ہیں کہ ہم گئے۔پس تم وہ چیز بنو جس کا نسخہ اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر اور آپؐ کے اتباع پر تجربہ کر کے دکھایا ہے۔کہ جب وہ دیتا ہے تو اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ لمبی کہانی ہے۔کہ کس کس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی نصرت کی ہے۔اسی شہر میں دیکھو ( مرزا غلام احمد ایدّہ اﷲ الاحد) ایک شخص ہے۔کیا قد میں امام الدین ۱؎ اس سے چھوٹا ہے یا اس کی ڈاذھی چوٹی ہے۔اس کا مکان دیکھو تو حضرت اقدس کے مکانوں سے مکان بھی بڑا ہے۔ڈاڑھی دیکھو تو وہ بھی بڑی لمبی ہے۔کوشش بھی ہے کہ مجھے کچھ ملے۔مگر دیکھتے ہو۔خدا کے دینے میں کیا فرق ہے؟ مَیں یہ باتیں کسی کی اہانت کے لئے نہیں کہتا۔میں ایسے نمونوں کو ضروری سمجھتا ہوں اور ہر جگہ یہ نمونے موجود ہیں۔مَیں خود ایک نمونہ ہوں، جتنا میں بولتا، کہتا اور لوگوں کو سناتا ہوں۔اس کا بیسواں حصّہ بھی ۱؎ مرزا امام الدّین