حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 358 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 358

سُوْرَۃَ الطَّارِقِ مَکِّیَّۃٌ  ۲۔۔طرق کے لغوی معنے ٹھونکنے کے ہیں۔اس سورہ سریفہ میں نجم ثاقب کو اس لئے طارق فرمایا کہ وہ شیاطین کو ٹھوک پیٹ کر کھدیڑتے ہیں۔اور آسمان کے لئے محافظ ہیں۔جب کہ ہر نفس کے محافظ ہیں تو پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی صیانت و حفاظت بالاولیٰ ضروری ہے۔راستہ ٹھونکنے پیٹنے سے اور اقدام کی رفتار سے مضبوط ہو جاتا ہے۔اس لئے طریق کہلاتا ہے۔مسافر لوگوں کے رات کو سو رہنے کے بعد جو دروازہ کو کھٹکھٹائے وہ بھی طارق ہے۔ایک شاعر کا قول ہے: طَرَقْتُ الْبَابَ حَتّٰی کَلَّمَتْنِیْ فَلَمَّا کَلَّمَتْنِیْ۔کَلَّمَتْنِیْ غرض کہ سورۃ شریفہ کا موضوع پیغمبرصلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم صیانت اور حفاظت اور آپؐ کے اعداء کو آپؐ پر حملہ کرنے سے ٹھوک پیت کر دفع کرنا سمجھا جاتا ہے۔اور یہ حفاظت و ذب و دفاع ظاہری اور باطنی دونوں طور سے متصوّر ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍جون ۱۹۱۲ء) ۴۔۔ثَاقببُ: دُور کا ستارہ۔ثرّیا اور تمامی ستارے بھی مراد ہو سکتے ہیں۔کل اصحابؓ آپؐ کی حفاظت کے لئے نجم ثاقب تھے۔بعض ستاروں کے طلوع کے وقت بیماریوں کے اجرام ان ستاروںک کی تاثیر سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔سب سے بڑا شیطانوں کو ٹھوک پیت کرکھدیڑنے والا وجود نبی ہی کا ہوتا ہے۔ہمارے ایک دوست نے اس بات کو ایک شعر میں ادا کیا ہے۔آسماں سے نجمِ ثاقب اس شبِ تاریک میں سر پہ شیطانوں کے پڑنے کے لئے نازل ہوا (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍جون ۱۹۱۲ء)