حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 359
۶ تا ۸۔۔۔ ۔پس دیکھ لے کس چیز سے آدمی بنایا گیا ہے۔اُچھلتے ہوئے پانی سے جو صلب اور ترائب کے درمیان کی جگہ سے نکلتا ہے۔اس آیتِ قرآنی پر جس میں انسان کی فطرت کا بیان مشاہدے کے طور پر بتایا گیا ہے۔پادری صاحب اعتراض کرتے ہیں… افسوس ہے کہ یہ لوگ کبھی قرآن کے اصلی لٹریچر سے واقفیت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔عوام کی سنی سنائی باتوں کو دل میں رکھ کر اعتراض جمانے لگتے ہیں۔کسی کتاب پر اعتراض کرنے سے پہلے اس کے اصلی ادب سے بلاواسطہ واقف ہونا فرص ہے۔اعتراض: ’’ نیچرل فلاسفی کے ڈاکٹر صاف صاف دکھلا سکتے ہیں کہ منی خصیے میں پیدا ہوتی ہے یہ بات غلط ہے۔کہ منی باپ کی پیٹھ اور ماں کے سینے میں ہو۔جیسے قرآن میں ہے۔‘‘ جواب: ہم کو نہایت تعجب آتا ہے جب ہم پادریوں کو نیچرل فلاسفی وغیر سائنٹیفک مصطلحاتبولتے سنتے ہیں۔انجیل اور فلاسفی؟ انجیلی تعلیم سخت ہچکچاتی ہے کہ میدان میں نکل کر سائنس سے مقابلہ کرے۔پادری دی۔ڈبلیو تھامس ( تشریہ التثلیث صفحہ ۲۲ مُعمّائے تثلیث کے حل سے عاجز آ کر کیسے بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں۔’’ خلقت ( نیچر۔قانونِ الہٰی ) کے احوال سے استدلال اور عقلی دلائل اس میں چل نہیں سکتے۔اس کا ثبوت بہم کلام الہٰی پر موقوف ہے۔‘‘ نیچرل فلاسفی! بڑا لفظ بولا۔دوسرے مذاہب پر تو اعتراض کرنے کے لئے تو بے اختیار لفظ زبان سے نکلے گا۔اندرونِ کانہ تو امّید ہے کم ہی استعمال کرنے کا موقع آتا ہو گا۔پادری صاحب ! نیچرل فلاسفی کے ڈاکٹر یوشع بن نون کی خاطر سورج کا کھڑا ہونا۔مُردوں کا زندہ کرنا۔مجسم انسان کا آسمان پر چڑھ جانا۔بے باپ کے لڑکا پیدا ہونا کب تسلیم کرتے ہیں۔پہلے انہیں ہی نیچرل فلاسفی کی کسوٹی پر کَس لیا ہوتا۔اب حقیقی جواب دینے سے پہلے ایک دو باتوں کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ قرآن مجید کی عظمت بخوبی واضح ہو جاوے۔شیخ سعدی ملک ایران میں پیدا ہوئے۔جس ملک کی نسبت مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یونان او