حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 338
سُوْرَۃَ الْاِنْفِطَارِِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔آخری زمانہ کی پیشگوئی ہے۔کیونکہ قرآن مجید میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے۔اس کا ظہور دنیا میں بھی ہونا چاہیئے۔اگر آسمان پھٹ جاوے اور سیّارے گر پڑیں وغیرہ وغیرہ اور دنیا زیر و زبر ہو جاوے۔تو وہ وقت انسانی ہدایت اور اصلاح کا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تو ہلاکت کا سماں ہو گا۔ان سورتوں میں جو قیامت کے متعلق واقعات ہیں۔در اصل یہ آخری زمانے کے نشانات ہیں۔اور آسمان کے پھٹ جانے سے یہ مراد نہیں کہ فی الواقعہ آسمان پھٹ جائے گا۔بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے۔اسی طرح آسمان بھی بیکار ہو گا۔آسمان سے فیوض نازل نہ ہوں گے۔اور دنیا ظلمت و تاریکی سے بھر جائیگی۔علاوہ بریں اس آیت اور اس قسم کی دوسری آیتوں پر آجکل کے زمانے کے حسبِ حال یا مسلّمات کی رُو سے اعتراض ہو سکتا ہے کہ آسمان تو مجرد بول ہے۔اس کا پھٹنا کیا معنی رکھتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قران مجید نے آسمان کو مجرد بول قرار نہیں دیا بلکہ اُسے ایک لطیف وجود قرار دیا ہے۔اور اگر کہا جاوے کہ پھر اس کے پھٹنے سے کیا مراد ہے؟ تو یہ یاد رہے۔کہ سماء سے مراد قرآن کریم میں کُلَّ مَا فِی السَّمَائِ بھی ہے علاوہ بریں کسی لطیف مادہ میں عدم خرق کس نے تسلیم کیا ہے۔بہر حال قرآن مجید نے یہ شہادت دی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ ہر چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دیگی۔اور تجلیاتِ الہٰیہ اُس کی جگہ لے لیں گی اور عللِ ناقصہ کی فنا اور انعدام کے بعد علّتِ تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔اس آیت میں ۔۔(الرحمان:۲۷،۲۸)اور ایسا ہی ایک دوسری آیت میں فرمایا۔(مومن: ۱۷) یعنی اﷲ تعالیٰ اپنی قہری تجلّی سے ہر ایک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانگت کو دکھلائے گا۔اس سورۃ شریف میں بھی آخر یہی فرمایا ہے۔(انفطار:۲۰) یہ اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے جو