حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 339 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 339

میں ادا کیا گیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی قہری تجلّی نمودار ہو گی۔اور فنا کا زبردست ہاتھ اپنا اثر دکھائے گا۔اور آسمانی اجرام میں ایک انقلاب واقع ہو گا۔ان آیات کو واقعات پر اگر مبنی قرار دیا جاوے تو بھی درست ہے۔کہ جب آسمان پھٹ جاوے گا۔تو ستاروں کا گر پڑنا یقینی امر ہے۔اور ستارں اور سمندروں کے تعلّقات میں جو کشش کام کر رہی ہے جب اس میں فرق آجائے گا۔تو سمندر کا اپنی حدّوں سے نکال جانا بھی مسلّم امر ہے۔آجکل کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے کہ زمین سکڑتی جاتی ہے اور سمندر اپنے کناروں سے بڑھ چلا آتا ہے۔یہ ان آیات کے مضامین کی صداقت کی دلیل ہیں۔۲ تا ۵۔۔۔ ۔۔اِنْفَطَرَتْ کو دوسری جگہ اِنْشَقَّتْ فرمایا ہے۔جدید تحقیقات میں آسمان کو لطیف چیز قرار دیا ہے۔لطیف ہی سہی۔لطیف پر بھی شق کا لفظ بولا جاتا ہے۔جیسے بادل پھٹ گیا وغیرہ۔بڑی بھاری مصیبت کے وقت بھی عرفًا کہتے ہیں کہ آسمان پھٹ پڑا۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے بڑی مصیبت اُمّت کے لئے میری وفات ہے۔کواکب کے انتشار سے ظاہری معنے کے علاوہ بڑے بڑے اہل اﷲ کا انتقال فرمانا ہے۔بعض کا قول ہے کہ بَحْر صرف کھارے پانی کے سمندر ہی کو کہتے ہیں۔مگر یہ صحیح نہیں معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ فرمایا ہے۔(فاطر:۱۳)دریاؤں سے نہریں چیر کر نکالنا جیسا کہ اس زمانہ میں ہوا ہے۔پہلے کبھی نہیں ہوا۔قرآن شریف کی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔کوئی دوسری آسمانی کتاب ایسی اس وقت موجود نہیں جو ایسی صفائی سے پیشگوئی کا پورا ہونا دکھلا وے۔بَعْثَرَ اور بَحْثَرَ کے ایک معنے ہیں جو بعث اور بحث سے مرکب ہے۔ان کے اصلی معنے پلٹ دینے کے۔کرید نے کے ہیں۔اور اسفل کو اعلیٰ اور اعلیٰ کو اسفلِ کر دینے کے ہیں۔عرب کا خاص محاورہ ہے۔کہ جب مٹی کو پلٹ دیتے ہیں تو بَعْثَرَ یُبَعْثِ رُ بَعْثَرَۃً سے تعبیر کرتے ہیں اور اسباب کو اُلٹ پُلٹ کرنے کے وقت بَعْثَرَ الْمَتَاعَ کہتے۔آجکل قبریں ایک جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ دفن کئے جاتے ہیں۔کیا تعجّب ہے کہ مسیح کی قبر بھی محلہ خانیار سری نگر کشمیر سے تحقیق کے لئے اکھیڑی جاوے۔اور پھر مع حواریوں کی قبروں کے تبرکاً