حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 337

گے تم‘‘ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) ان آیاتِ کریمہ کا ذکر فرماتے ہوئے جن سے پادری صاحبوں یا اور نافہموں نے انسان کے مجبور ہونے پر استدلال کیا ہے۔تحریر فرماتے ہیں۔معدوم کو موجود کرنا خدا کا کام ہے مخلوق میں۔ہاں حیوان اور انسان کے دل میں کسی ارادے اور مشیّت کا پیدا کر دینا بے شک باری تعالیٰ کا کام ہے۔اِلّا ہر ایک مصنّف جانتا ہے۔کہ صرف مشیّت اور ارادے کے وجود سے کسی فعل کا وجود ضروری اور لازمی امر نہیں۔یقینا قوٰی فطری کا خلق اور عطا کرنا جن پر ہر گو نہ افعال کا وجود و ظہور مترتب و مُتَفرّع ہو سکتا ہے۔خالق ہی کا کام ہے۔اس لطیف نکتہ کے سمجھانے کے لئے اور نیز اس امر کے اظہار کرنے کو کہ قوٰی طبعی اور کائنات سے کوئی وجود اصل امر خلق میں شریک نہیں۔سب اشیاء کی علّت العلل مَیں ہی ہوں۔باری تعالیٰ سب افعال کو بلکہ ان افعال کو بھی جو ہم معائنہ اور مشاہدہ کے طور پر انسان اور حیوان سے سرزد ہوتے دیکھتے ہیں۔اپنی طرف نسبت کرتا ہے۔کہیں قرآن میں فرماتا ہے۔ہوا بادلوں کو ہانک لاتی ہے۔کہیں فرماتا ہے۔ہم بادلوں کو ہانکتے ہیں۔ہم ہی گایوں اور بھینسوں کے تھنوں میں دودھ بناتے ہیں۔ہم ہی اناج بوتے ہیں۔ہم ہی کھیت اُگاتے ہیں۔اور تاَمُّل کے بعد یہ سب نسبتیں جو ظاہرًامتصادالطرفین۔بالکل صحیح اور حقیقۃً بالکل صداقت ہیں۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۶۲) خ خ خ