حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 263
مسیح علیہ السلام کے ماسوا کس قدر انبیاء و رسل اور اﷲ تعالیٰ کے مامور گزرے ہیں۔کیا کسی کا نسب نامہ قرآن کریم میں لکھا ہے؟ بلکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے پس سب کے وجود کا علم بھی ضروری نہیں چہ جائیکہ وہ کس طرح پیدا ہوئے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۱۸۱) : یہ پیشگوئی ایک شخص کو تاریخی انسان بنانے والی ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ مارچ ۱۹۱۲ء) آریہ مکذّب براہین احمدیہ کے اعتراض ’’ آریہ محمدی لوگوں کی طرح پانچ ہزار سال یا چھ ہزار سال سے خالق۔رازق۔مالک۔رحیم۔عادل اور قادرِ مطلق نہیں مانتے۔‘‘ کے جواب میں فرمایا: تمام قرآن کریم اور حدیث نبی رؤف الرحیم میں سے یہ قول نکال دیجئے۔کہاں اسلام نے کہا ہے کہ خدا پانچ چھ ہزار سال سے خالق۔رازق۔مالک۔رحیم۔عادل اور قادر مطلق ہے۔خدا کے واسطے کچھ تو خوف الہٰی کو دل میں جگہ دو۔عدالتِ الہٰی کا دھیان کرو۔صرف نیشنلٹی اور صرف دنیوی پالیسی کس کام آوے گی۔باری تعالیٰ عالم الغیب اور انتریامی اور عادل ہے۔علیم بذات الصدور ہے۔راستی پر اپنے فضل سے ارام کا داتا ہے۔مسلمان تو اﷲ تعالیف کو ہمیسہ سے رازق۔مالک۔عادل۔رحیم۔قادر یقین کرتے ہیں۔بلکہ ایک جمِ غفیر مسلمانوں کاعینیَتِ صفات کا قائل نہیں۔مگر یہ اعتقادر رکھتا ہے۔کہ اﷲ تعالیٰ اپنی صفات سے کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔بلکہ کوئی موصوف کسی وقت اپنے لازمہ صفات سے خالی نہیں ہو سکتا۔اگر اﷲ تعالیٰ کا خالق رازق ہونا بلحاظ انسانی پیدائش کے آپ لیتے ہیں۔تو بتایئے مرنے کے وقت انسان کہاں ہوتے ہیں۔جن کا وہ خالق رازق ہوتا ہے۔