حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 264
ہم زیادہ بحث نہیں کرتے۔پانچ چھ ہزار برس سے کل مخلوق کی پیدائش کا زمانہ بلکہ انسانی پیدائش کا زمانہ قرآن کریم یا حدیث نبی رحیم سے نکال دیکئے۔پس اسی پر فیصلہ ہے۔تعجّب ہے کہ آپ نے خود صفحہ ۲۳ میں ارقام فرمایا ہے۔’’ یہ امر مسلّم فریقین ہے۔کہ پرمیسور اور اس کی سب صفات اور علم اور ارادہ قدیم ہیں۔اس واسطے اس پر بحث کی ضرورت نہیں۔پھر مَیں کہتا ہوں۔اگر یہ بات مسلم فریقین ہے۔تو آپ نے صفحہ ۲۲ میں کس بناء پر اسلام کو الزام لگایا کہ محمدی پانچ ہزار سال سے اﷲ تعالیٰ کو خالق رازق جانتے ہیں۔غرض اسلام تو اﷲ تعالیٰ کی اتنی مخلوق کا قائل ہے جو حدّ و شمار سے باہر ہے۔دیکھو قران کریم میں صاف موجود ہے۔وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ۔وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْیئٍ مِّنْ عِلْمِہٖ تیرے ربّ کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا۔اس کے کسی قدر علم کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔اور اسلامیوں کی مسلّم الثبوت اور اعلیٰ درجہ کی کتاب صحیح بخاری میں کَانَ اﷲ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا کے یہ معنے لکھے ہیں۔لَمْ یَزَلْ کَذٰلِکَ فَاِنَّ اﷲَ لَمْ یُرِدْشنیْئًا ابلَّا اَصَاب بِہِ الَّذِیْ اَرَادَ یعنی ’’ اﷲ تعالیٰ ہمیشہ ایسا ہی ہے۔بیشک اﷲ تعالیٰ جب ارادہ کرتا ہے۔وہ کام ہو ہی جاتا ہے‘‘ (بخاری تفسیر سورۃ حٰمٰ السجدہ) (تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۷۴۔۷۵) ۳۸۔۔جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے۔یا پیچھے ہٹنا چاہے۔اس کے لئے اِنْذار مفید ہو سکتا ہے مگر جس کے دل میں جنبش ہی نہ ہو۔نرا ٹھوس ہے۔انذار اور عدم انذارکو دونںو ہی کو برابر سمجھتا ہے اور جگہ سے ہلنا ہی نہیں چاہتا ہے۔اس کے لئے قرآن شریف کا اُترنا اور نہ اُترنا گویا دونوں برابر ہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ مارچ ۱۹۱۲ء)