حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 258
پس قرآن کا پڑھنا بہت آسان ہے۔نماز گناہ سے روکتی اور گناہ سے رُکنے کا علاج ہے۔مگر سنوار کر پڑھنے سے۔غافل سوتے ہوئے اٹھ کر نجات کے طالب بنو۔اور اذان کی آواز پر دوڑو۔ْ۔ہاں بلانے والا پہلے اپنا دامن پاک کر لے۔پھر کسی کو بلاوے۔جب اذان سن لے تو درود پڑھے کہ یا اﷲ ہمارے نبیؐ نے کس جانفشانی اور محبت اور ہوشیاری سے خدا کی تکبیر سکھلائی اور تم تک پہنچائی ہے۔اس پر ہماری طرف سے کوئی خاص رحمت بھیج دو اور اس کو مقامِ محمود تک پہنچا۔اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق دے۔(الحکم ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۹) : مزمل اور مدّثر دونوں لفظوں کے معنے قریب قریب ایک ہیں۔مدّثر و ثار سے مشتق ہے۔دِثَار وہ کپڑا ہے جو شعار کے اوپر پہنا جاوے اور شِعَار وہ کپڑا ہے جو جسم سے مِلا رہے۔حدیث شریف میں ہے۔الا نصار شعار وَ النَّاس دثارٌ۔یہ سورۃ شریفہ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی ابتدائی دعوت کے وقت کی وحی ہے۔اور اس کی قوّت و شوکت آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آطہ وسلم کی رسالت اور قرآنِ پاک کی حقانیت کی ایک زبردست دلیل ہے۔کیونکہ اس کا نزول ابتدائی وقت میں ہے جبکہ کوئی جتھا آپؐ کے پاس نہ تھا۔: سورۃ مزمل میں اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ اور تقرّب الی اﷲ حاصل کرنے کا حکم ہوا تھا اور اس سورہ شریفہ میں ارشاد ہدایت خلق اﷲ کا حکم فرمایا ہے پہلی شق مرتبہ کمال اور دوسری شِق مرتبہ تکمیل کے متعلق ہے۔اسی لئے مرتبہ کمال کو مرتبہ تکمیل پر مقدم رکھا۔سورۃ ماقبل میں قُمِ الَّیْلَ ( مزمل:۳)فرمایا تھا اور اس سور ۃ میں فرمایا۔قُمِ الَّیْلَ اپنے کمالِ نفس کی تحصیل کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور تکمیل خلق اﷲ کے حاصل کرنے کی جانب ایماء کر رہا ہے۔: ربّ کا لفظ تکمیل کو چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو ارشاد ہے کہ اپنے ربّ کی عظمت بیان کر۔جس وقت آپ مبعوث ہوئے اس وقت مشرکینِ عرب ربّ النوع کی پرستش کرتے تھے اور اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ کی عبادت ہوتی تھی۔اس میں پیشگوئی ہے کہ اﷲ اکبر کے نعروں کے بلند ہونے کا وقت آ گیا ہے۔: اپنا آپ پاک بناؤ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍ مارچ ۱۹۱۲ء) یہ سورۃ المدثر کا ابتداء ہے۔یہاں فرمایا ہے۔کس نے فرمایا ہے۔تمہارے ربّ محسن۔مربّی