حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 257 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 257

طرف حکم کی خلاف ورزی۔سُستی کرنا اور یہ دونوں آپس میں نقیض ہیں۔اس سے عجز اور کسل پیدا ہوتا ہے پس ایسی جگہ میں شہوت پر عفت۔اور حرص پر قناعت اختیار کرے اور مآ ل اندیشی کر لیا کرے۔مال کی تحصیل میرے نزدیک سہل اور آسان امر ہے۔ہاں حاصل کر کے عمدہ موقع پر خرچ کرنا مشکل امر ہے۔پس ایک طرف خدا شناسی ہو اور دوسری طرف مخلوق پر شفقت ہو۔اﷲ اکبر کا حصول۔چار دفعہ تم اذان کے پہلے ہر نماز میں سنتے ہو۔اور ستّرے دفعہ امام تم کو نماز میں سناتا ہے۔پھر حج میں۔عید میں۔رسول کریمؐ نے کیسی حکمِ الہٰی کی تعمیل کی ہے۔کہ ہر وقت اس کا اعادہ کرایا اور یہ اس لئے کہ انسان جب ایک مسئلہ کو عمدہ سمجھ لیتا ہے تو علم بڑھتا ہے اور علم سے خدا کے ساتھ محبت بڑھتی ہے۔پھر اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اﷲُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ کہا جاتا ہے جس کے معنے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲہی معبود ہے۔اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔پھر جس طرح خدا نے حکم دیا اُس طرح اس کی کبریائی بیان کر۔جس طرح اس نے حکم دیا اس طرح نماز پڑھ۔ل اسی طرح اس سے دعائیں مانگ۔پھر یہ طریق کس طرح سیکھنا چاہیئے۔وہ ایک محمدؐ ہے صلی اﷲ علیہ وسلم اور وہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔اس سے جا کر سیکھو پھر جب ان احکام کی تعمیل میں تو مستعد ہو جاوے تو حَیَّی عَلٰی الصَّلوٰۃ آ نماز پڑھ کہ وہ تجھے بدی سے روکے۔پھر نماز کے معانی سیکھنا کوئی بڑی بات نہیں۔کودَن سے کودَن آدمی ایک ہفتہ میں یاد کر لیتا ہے۔ایک امیر میرا مربّی تھا۔اس کے دروازہ پر ایک پوربی شخص صبح کے وقت پہرہ دیا کرتا تھا۔ایک دن وہ صبح کی نماز کو نکلے تو وہ خوش الحانی سے گا رہا تھا۔کہا۔تم ئیہاں کیوں کھڑے ہو۔جواب دیا کہ پہرادار ہوں۔انہوں نے کہا۔اچھا تمہارا پہرہ دن میں دو گھنٹہ کا ہوتا ہے۔ہم تمہارا پہرہ پانچ وقت میں بدل دیتے۔تم تھوڑی تھوڑی دیر کے واسطے آ جایا کرو۔اور نماز کے وقت میں پانچوں وقت اس کے وقت کو تقسیم کر دیا اور اس وقت جاتے جاتے اس کو کے معنے سکھا دئے کہ میری واپسی پر یاد رکھنا۔چنانچہ جب وہ نماز صبح پڑھ کر واپس آئے تو اس نے یاد کر لئے تھے۔آ کر اس کو رخصت دیدی۔پھر الحمد شریف کے معنے بتادئے۔غرض عِشاء کی نماز تک اَلْحَمد اور قُل کے معنے اُس نے پورے یاد کر لئے۔ایک دفعہ کچھ عرصہ کے بعد اس کا پہرہ پچھلی رات میرے مکان پر تھا مَیں نے سُنا کہ وہ بارہوں پارہ کو پڑھ رہا تھا۔غرض دریافت پر کہا کہ تھوڑا تھوڑا کر کے بارہ سپارہ بامعنی یاد کر لئے ہیں۔